حدیث نمبر: 16508
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ - وَكَانَ أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ - : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ خَطِيبًا ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَاسْتَغْفَرَ لِلشُّهَدَاءِ الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ : " إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ ، تَزِيدُونَ إِنَّ الْأَنْصَارَ لَا يَزِيدُونَ ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا ، فَأَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عبدالرحمن بن کعب بن مالک اپنے والد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں : اُن کے والد ان تین افراد میں سے ایک ہیں جن کی توبہ قبول ہوئی تھی ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور ان شہداء کے لئے دعائے مغفرت کی جو غزوہ اُحد میں شہید ہو گئے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے مہاجرین کے گروہ ! تم لوگ زیادہ ہوتے جاؤ گے ، اور انصار زیادہ نہیں ہوں گے ، انصار میرے رازدار ہیں ، جن کی میں نے پناہ لی ، تو تم ان کے معزز فرد کی عزت افزائی کرنا اور اُن کے برے فرد سے درگزر کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16508
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (79/19)»