حدیث نمبر: 16506
وَعَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ سَهْلًا دَخَلَ عَلَى الْحَجَّاجِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى يَدِهِ فَقَالَ لَهُ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي الْأَنْصَارِ : " أَحْسِنُوا إِلَى مُحْسِنِهِمْ ، وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " . فَقَالَ : مَنْ يَشْهَدُ لَكَ ؟ قَالَ : هَذَانِ كَنَفَيْكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، فَقَالَا : نَعَمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

عباس بن سہل بن سعد بیان کرتے ہیں : سیدنا سہل رضی اللہ عنہ ، حجاج کے پاس آئے ، وہ اس وقت ہاتھ کے ذریعے ٹیک لگائے ہوئے تھا ، سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے بارے میں یہ فرمایا ہے : کہ ان کے اچھے فرد کے ساتھ اچھائی کرو اور ان کے برے فرد سے درگزر کرو ، حجاج نے دریافت کیا : کون آپ کے حق میں گواہی دے گا ؟ تو انہوں نے کہا: یہ دو افراد جو تمہارے پہلو میں بیٹھے ہوئے ہیں ، عبداللہ بن جعفر اور ابراہیم بن محمد بن حاطب ، تو ان دونوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ( یعنی ایسا ہی ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس بن سہل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16506
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف