حدیث نمبر: 16504
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقِيلَ لَهُ : هَذِهِ الْأَنْصَارُ رِجَالُهَا وَنِسَاؤُهَا فِي الْمَسْجِدِ يَبْكُونَ ، قَالَ : " وَمَا يُبْكِيهَا ؟ " . قَالَ : يَخَافُونَ أَنْ تَمُوتَ . قَالَ : فَخَرَجَ فَجَلَسَ عَلَى مِنْبَرِهِ مُتَعَطِّفٌ بِثَوْبٍ ، طَارِحٌ طَرَفَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْهِ ، عَاصِبٌ رَأْسَهُ بِعِصَابَةِ سَخْتٍ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، أَيُّهَا النَّاسُ ، فَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَتَقِلُّ الْأَنْصَارُ حَتَّى يَكُونُوا كَالْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ ، فَمَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِمْ فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ ، وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا أَوَّلَهُ إِلَى قَوْلِهِ : فَخَرَجَ فَجَلَسَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنِ ابْنِ كَرَامَةَ ، عَنِ ابْنِ مُوسَى ، وَلَمْ أَعْرِفِ الْآنَ أَسْمَاءَهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی آیا اور آپ کو بتایا کہ انصار کے مرد اور خواتین مسجد میں موجود ہیں اور وہ رو رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں رو رہے ہیں ؟ آپ کو بتایا گیا کہ ان لوگوں کو یہ اندیشہ ہے کہ کہیں آپ کا انتقال نہ ہو جائے ، راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے ، آپ نے کپڑا سر پر باندھا ہوا تھا ، جس کے کنارے آپ کے کندھے پر آ رہے تھے ، آپ نے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی جو پرانے کپڑے کی تھی ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” امابعد ! اے لوگو ! بے شک دوسرے لوگ زیادہ ہو جائیں گے اور انصار کم ہوتے رہیں گے ، یہاں تک کہ وہ یوں ہو جائیں گے جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے ، تو جو شخص لوگوں کے معاملے میں کسی چیز کا نگران بنے ، تو وہ انصار کے اچھے فرد کی اچھائی کو قبول کرے اور برے فرد کی برائی سے درگزر کرے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس کا ابتدائی حصہ یہاں تک نہیں ہے : ” آپ تشریف لائے اور تشریف فرما ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام بزار نے ابن کرامہ کے حوالے سے ابن موسیٰ سے نقل کی ہے اور اس وقت میں ان دونوں کے ناموں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16504
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2798)»