مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْأَنْصَارِ . باب: انصار کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَمَسُّ رُكْبَتِي رُكْبَتَهُ ، فَأَتَاهُ آتٍ ، فَالْتَقَمَ أُذُنَهُ ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَثَارَ الدَّمُ فِي أَسَارِيرِهِ ، وَقَالَ : " هَذَا يَا رَسُولُ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ يَتَهَدَّدُنِي وَيَتَهَدَّدُ مَنْ بِإِزَائِي ، فَكَفَانِيهِ اللَّهُ بِالْبَنِينَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، بِابْنَيْ قَيْلَةَ " يَعْنِي الْأَنْصَارَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ : " فَكَفَانِيهِ اللَّهُ بِالنَّبِيِّ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، وَبِابْنَيْ قَيْلَةَ " . وَفِي إِسْنَادِهِمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْبَكْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، میرا گھٹنا آپ کے گھٹنے کو مس ہو رہا تھا اسی دوران ایک شخص آپ کے پاس آیا ، اس نے آپ کے کان کے پاس منہ کیا اور کوئی بات بیان کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ تبدیل ہو گیا اور آپ کی رگوں میں خون پھیل گیا ( یعنی رگیں نمایاں ہو گئیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ عامر بن طفیل کا قاصد ہے اور اس نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو دھمکی دی ہے ، حالانکہ اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ اولاد اسماعیل میں سے ( بعض افراد یعنی مہاجرین ) اور قیلہ کے دو بیٹوں ( کی اولاد ) کے ذریعے میری مدد کر دے گا “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد انصار تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اللہ تعالیٰ اس کے مقابلے میں اپنے نبی کی کفایت ، اسماعیل کی اولاد میں سے ( بعض افراد یعنی مہاجرین ) اور قیلہ کے دو بیٹوں ( کی اولاد یعنی انصار ) کے ذریعے کر دے گا ۔ “ ان دونوں کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یزید بکری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔