حدیث نمبر: 16454
وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعُمَرَ : " اجْمَعْ لِي قَوْمَكَ " . فَجَمَعَهُمْ عُمَرُ عِنْدَ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُدْخِلُهُمْ عَلَيْكَ ، أَوْ تَخْرُجُ إِلَيْهِمْ ؟ قَالَ : " بَلْ أَخْرُجُ إِلَيْهِمْ " . قَالَ : فَأَتَاهُمْ فَقَالَ : " هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . فِينَا حُلَفَاؤُنَا ، وَفِينَا بَنُو إِخْوَانِنَا ، وَفِينَا مَوَالِينَا . فَقَالَ : " حُلَفَاؤُنَا مِنَّا ، وَبَنُو إِخْوَانِنَا مِنَّا ، وَمَوَالِينَا مِنَّا ، وَأَنْتُمْ أَلَا تَسْمَعُونَ : " إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ " ; فَإِنْ كُنْتُمْ أُولَئِكَ فَذَاكَ ، وَإِلَّا فَانْظُرُوا ، لَا يَأْتِي النَّاسُ بِالْأَعْمَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَتَأْتُونَ بِالْأَثْقَالِ فَنُعْرِضُ عَنْكُمْ " . ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنْ قُرَيْشًا أَهْلُ أَمَانَةٍ ، فَمَنْ بَغَاهُمُ الْعَوَاثِرَ أَكَبَّهُ اللَّهُ لِمَنْخَرَيْهِ " . - قَالَهَا ثَلَاثًا - . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدَ بِاخْتِصَارٍ وَقَالَ : " كَبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ لِوَجْهِهِ " . وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِ الْبَزَّارِ ، وَقَالَ فِي رِوَايَةٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ فَقَالَ : قَدْ جَمَعْتُ لَكَ قُومِي ، فَسَمِعَ بِذَلِكَ الْأَنْصَارُ فَقَالُوا : قَدْ نَزَلَ فِي قُرَيْشٍ الْوَحْيُ ، فَجَاءَ الْمُسْتَمِعُ وَالنَّاظِرُ مَا يَقُولُ لَهُمْ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ . فَذَكَرَ نَحْوَ الْبَزَّارِ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم اپنی قوم کے افراد کو میرے لئے اکٹھا کرو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے پاس اکٹھا کیا ، پھر وہ گھر کے اندر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں انہیں آپ کے پاس اندر آنے کے لئے کہوں ؟ یا آپ باہر ان کے پاس تشریف لے جائیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ میں اُن کے پاس باہر جاؤں گا ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے پاس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا فرد ہے ؟ جو تمہارے علاوہ ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! ہمارے درمیان ہمارے حلیف لوگ موجود ہیں اور ہمارے بھتیجے ہیں ( عربی متن میں یہی لفظ ہے ، لیکن شاید یہاں لفظ ” بھانجے “ ہونا چاہیے تھا ) اور ہمارے موالی ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہمارے حلیف ہم میں سے ہیں ، اور ہمارے بھتیجے ( یا ” بھانجے “ ) ہم میں سے ہیں ، اور ہمارے موالی ہم میں سے ہیں ، اور تم لوگ ، کیا تم لوگ سنتے نہیں ہو ؟ بے شک اس کے مددگار صرف پرہیزگار لوگ ہیں ، اگر تم ایسے ہو گے ، تو پھر یہ چیز ملے گی اور اگر ایسا نہ ہو ، تو پھر تم اس بات کا دھیان رکھنا ، ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن لوگ اعمال لے کر آئیں اور تم بوجھ لے کر آؤ ، اور ہم تم سے اعراض کریں ۔ “
راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور عرض کی : اے اللہ ! بے شک قریش ، امانت دار لوگ ہیں جو شخص ان کے خلاف سرکشی کرے گا ، اللہ تعالیٰ اُسے نتھنوں کے بل اوندھا کر دے گا ، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، وہ یہ الفاظ نقل کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ اُسے چہرے کے بل اوندھا کر کے جہنم میں ڈال دے گا ۔ “
امام طبرانی نے امام بزار کی مانند روایت نقل کی ہے ، انہوں نے ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے انہوں نے عرض کی : میں نے آپ کے لئے اپنی قوم کو جمع کر دیا ہے ، جب انصار کو اس بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے کہا: قریش کے بارے میں کوئی وحی نازل ہوئی ہو گی ، پھر وہ لوگ بھی آئے ، کوئی سننے والا تھا ، کوئی دیکھنے والا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کیا کہتے ہیں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، آپ ان لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے امام بزار کی روایت کی مانند روایت مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام
بزار کے رجال اور امام طبرانی کی سند کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16454
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2780)»