حدیث نمبر: 16431
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَتْ لَيْلَتِي ، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدِي ، فَأَتَتْهُ فَاطِمَةُ فَسَبَقَهَا عَلِيٌّ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَلِيُّ ، أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ فِي الْجَنَّةِ ، إِلَّا أَنَّهُ مِمَّنْ يَزْعُمُ أَنَّهُ يُحِبُّكَ أَقْوَامٌ يَرْفُضُونَ الْإِسْلَامَ ، ثُمَّ يَلْفِظُونَهُ ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيهِمْ ، لَهُمْ نَبَزٌ يُقَالُ لَهُمْ : الرَّافِضَةُ ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهُمْ فَجَاهِدْهُمْ ; فَإِنَّهُمْ مُشْرِكُونَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْعَلَامَةُ فِيهِمْ ؟ قَالَ : " لَا يَشْهَدُونَ جُمُعَةً وَلَا جَمَاعَةً ، وَيَطْعَنُونَ عَلَى السَّلَفِ الْأَوَّلِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ غَانِمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ میری باری کی مخصوص رات تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس موجود تھے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان سے سبقت لے گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے علی ! تم اور تمہارے ساتھی جنت میں ہوں گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو یہ کہتا ہے ، وہ تم سے محبت رکھتا ہے ، کچھ لوگ ہیں ، جو اسلام کو پرے کر دیں گے اور اسے ایک طرف پھینک دیں گے ، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ اُن کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ، ان کا ایک مخصوص نام ہو گا انہیں ” رافضہ “ کہا: جائے گا ، جب تم اُن کا زمانہ پاؤ ، تو ان کے ساتھ جہاد کرنا ، کیونکہ وہ لوگ مشرک ہوں گے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اُن کے درمیان موجود مخصوص نشانی کیا ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ جمعہ اور جماعت میں شریک نہیں ہوں گے اور پہلے کے اسلاف پر طعن کریں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن غانم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16431
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف