مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي تَارِكِ الصَّلَاةِ . باب: تارک نماز کا بیان
وَعَنِ الْمُسَوَّرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ مُسَجًّى فَقُلْتُ : كَيْفَ تَرَوْنَهُ ؟ قَالُوا : كَمَا تَرَى . قُلْتُ : أَيْقِظُوهُ بِالصَّلَاةِ ; فَإِنَّكُمْ لَنْ تُوقِظُوهُ لِشَيْءٍ أَفْزَعَ لَهُ مِنَ الصَّلَاةِ . فَقَالُوا : الصَّلَاةَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ فَقَالَ : هَا اللَّهِ إِذًا ! وَلَا حَقَّ فِي الْإِسْلَامِ لِمَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ ، فَصَلَّى وَإِنَّ جُرْحَهُ لِيَثْعَبُ دَمًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اُس وقت انہیں ڈھانپ دیا گیا تھا ، میں نے دریافت کیا : تم لوگوں نے انہیں کس حالت میں پایا ہے ؟ لوگوں نے کہا: جیسے آپ دیکھ رہے ہیں ، میں نے کہا: تم انہیں نماز کے حوالے سے جگاؤ ! کیونکہ تم انہیں ، اور کسی ایسی چیز کے حوالے سے نہیں جگا سکتے ، جو ان کے نزدیک نماز سے زیادہ اہم ہو ، تو لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین ! نماز کا وقت ہو گیا ہے ، انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! جی ہاں ! ایسے شخص کا اسلام میں کوئی حق نہیں ہے ، جو نماز کو ترک کر دیتا ہے ، پھر انہوں نے نماز ادا کی ، حالانکہ اُن کے زخم سے خون بہہ رہا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔