حدیث نمبر: 1621
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : أَوَّلُ صَلَاةٍ رَكَعْنَا فِيهَا الْعَصْرُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هَذَا ؟ فَقَالَ : " بِهَذَا أُمِرْتُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ فَهُوَ ثِقَةٌ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ، وَلَمْ أَجِدْ أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ فِي الْمِيزَانِ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو نماز ہم نے سب سے پہلے ادا کی ، وہ عصر کی نماز ہے ( یا شاید یہ ترجمہ ہو گا : جس نماز میں ہم نے سب سے پہلے رکوع کیا ، وہ عصر کی نماز ہے ) ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعبدالرحیم ہے ، اگر تو یہ خالد بن یزید ہے ، تو پھر یہ ” ثقہ “ ہے ، اور صحیح کے رجال میں سے ہے ، میں نے ” میزان الاعتدال “ میں ابوعبدالرحیم کا ذکر نہیں پایا ہے ، یہ شخص مجہول ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1621
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف بوجہ جہالتِ راوی
تخریج حدیث «البحر الزخار مسند البزار ومما روى زاذان عن على بن ابي طالب ، 733 ، المعجم الاوسط للطبراني باب العين ، باب الميم من اسمه محمد 7389»