حدیث نمبر: 16158
عَنْ رَبَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ مُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيٍّ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ثَلَاثَةٍ مِنَّا بَعِيرًا ، يَرْكَبُهُ اثْنَانِ وَيَسُوقُهُ وَاحِدٌ فِي الصَّحَارَى ، وَيَفُوزُ فِي الْحِيَالِ ، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَمْشِي ، فَقَالَ لِي : " أَرَاكَ يَا رَبَاحُ مَاشِيًا " . فَقُلْتُ : إِنَّمَا نَزَلْتُ السَّاعَةَ وَهَذَانِ صَاحِبَايَ وَقَدْ رَكِبَا ، بِصَاحِبِي فَأَنَاخَا بِعِيرَهُمَا وَنَزَلَا عَنْهُ ، فَلَمَّا انْتَهَيْتُ قَالَا : ارْكَبْ صَدْرَ هَذَا الْبَعِيرِ ، فَلَا تَزَالُ عَلَيْهِ حَتَّى تَرْجِعَ ، وَنَعْتَقِبُ أَنَا وَصَاحِبِي ، قُلْتُ : وَلِمَ ؟ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ لَكُمَا رَفِيقًا صَالِحًا ; فَأَحْسِنَا صُحْبَتَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَقِيلَ فِيهِ : صَدُوقٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا رباح بن ربیع بن مرقع بن صیفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے تین افراد کو ایک اونٹ دیا ، دو افراد اس پر سوار ہو جاتے تھے ، اور ایک اسے ہانک کر لے کر چلتا تھا ، صحراء میں ایسا ہوتا رہا ، اسی دوران ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے ، تو میں پیدل چل رہا تھا ، آپ نے مجھ سے فرمایا : اے رباح ! میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم پیدل چل رہے ہو ، میں نے عرض کی : میں ابھی تھوڑی دیر پہلے نیچے اترا ہوں اور اب یہ میرے دونوں ساتھی سواری کر رہے ہیں ، پھر میں اپنے ساتھی کے پاس سے گزرا ، انہوں نے اپنے اونٹوں کو بٹھا دیا تھا اور وہ اس سے نیچے اتر آئے تھے ، جب میں وہاں پہنچا ، تو ان دونوں نے کہا: تم اس اونٹ کے آگے والے حصے پر سوار ہو جاؤ اور واپس جانے تک تم آگے والے حصے پر سوار ہو گے ، میں اور میرا دوسرا ساتھی ہم پیچھے بیٹھیں گے ، میں نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : تم دونوں کا ساتھی نیک آدمی ہے ، تم نے اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے : وہ صدوق ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16158
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4623)»