حدیث نمبر: 1615
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَا صَلَاةَ لَهُ " ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ : مَنْ سَمِعَ هَذَا مِنْ أَبِي الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ وَاللَّهِ مَا بَعُدَ الْعَهْدُ وَمَا نَسِيتُ ، إِنَّمَا قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَاءَ بِصَلَوَاتِ الْخَمْسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَدْ حَافَظَ عَلَى وُضُوئِهَا وَمَوَاقِيتِهَا وَرُكُوعِهَا وَسُجُودِهَا لَمْ يَنْقُضْ مِنْهَا شَيْئًا - جَاءَ وَلَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُ ، وَمَنْ جَاءَ قَدِ انْتَقَصَ مِنْهُنَّ شَيْئًا فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ ، إِنْ شَاءَ رَحِمَهُ ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو إِلَّا عِيسَى بْنُ وَاقِدٍ . قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین

ابوسلمہ نے ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” جس شخص نے وتر ادا نہ کیے ہوں ، اُس کی نماز نہیں ہوتی “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس روایت کے بارے میں پتہ چلا ، تو انہوں نے فرمایا : سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت کس نے سنی ہے ؟ اللہ کی قسم ! نہ تو زیادہ عرصہ گزرا ہے ، اور نہ ہی میں بات بھولی ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی : ” جو شخص قیامت کے دن پانچ نمازیں لے کے آئے گا ، یوں کہ اُس نے ان نمازوں کے وضو ، اُن کے اوقات ، ان کے رکوع اور ان کے سجود کی حفاظت کی ہو ، اور اس میں کوئی کمی نہ کی ہو ، تو جب وہ شخص آئے گا ، تو اس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ عہد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اُسے عذاب نہیں دے گا ، اور جو شخص ایسی حالت میں آئے کہ اس نے ان نمازوں میں کسی حوالے سے کوئی کمی کی ہو ، تو اس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی عہد نہیں ہو گا ، اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا ، تو اس پر رحم کرے گا ، اور اگر چاہے گا ، تو اسے عذاب دے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں ۔ محمد بن عمرو نامی راوی کے حوالے سے ، اس روایت کو صرف عیسیٰ بن واقد نے نقل کیا ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1615
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف