مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت نوفل اشجعی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16149
عَنْ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَفَعَ رَقَبَةً لِأُمِّ سَلَمَةَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّمَا أَنْتَ ظِئْرِي " . فَمَكَثَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا فَعَلَتِ الْجَارِيَةُ - أَوِ الْجُوَيْرِيَةُ - ؟ " . قُلْتُ : صَالِحَةٌ عِنْدَ أُمِّهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ خَلَّادِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا نوفل اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی ایک کنیز ان صاحب کے حوالے کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم میرے عزیز ہو ، پھر وہ جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا ، اتنا عرصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس کنیز کا کیا حال ہے ؟ تو میں نے کہا: وہ ٹھیک ہے ، اپنی والدہ کے پاس ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف خلاد بن اسلم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔