حدیث نمبر: 16145
عَنْ عَطَاءٍ - مَوْلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ - قَالَ : رَأَيْتُ مَوْلَايَ : السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ لِحْيَتُهُ بَيْضَاءُ ، وَرَأْسُهُ أَسْوَدُ ، فَقُلْتُ : يَا مَوْلَايَ ، مَا لِرَأْسِكَ لَا يَبْيَضُّ ؟ قَالَ : لَا يَبْيَضُّ رَأْسِي أَبَدًا ; وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَضَى وَأَنَا غُلَامٌ أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ ، فَسَلَّمَ وَأَنَا فِيهِمْ فَرَدَدْتُ - عَلَيْهِ السَّلَامَ - مِنْ بَيْنِ الْغِلْمَانِ ، فَدَعَانِي فَقَالَ لِي : " مَا اسْمُكَ ؟ " . فَقُلْتُ : السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنُ أُخْتِ النَّمِرِ ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي وَقَالَ : " بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ " . فَلَا يَبْيَضُّ مَوْضِعُ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْكَبِيرِ : كَانَ وَسَطُ رَأْسِ السَّائِبِ أَسْوَدَ وَبَقِيَّتُهُ أَبْيَضَ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا سَيِّدِي ، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ رَأْسِكَ هَذَا قَطُّ ! هَذَا أَسْوَدُ ، وَهَذَا أَبْيَضُ ! قَالَ : أَفَلَا أُخْبِرُكَ يَا بُنَيَّ ؟ قُلْتُ : بَلَى قَالَ : إِنِّي كُنْتُ مَعَ صِبْيَانٍ نَلْعَبُ ، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَعَرَّضْتُ لَهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " وَعَلَيْكَ ، مَنْ أَنْتَ ؟ " . قُلْتُ : أَنَا السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ أَخُو النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ ، فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ " . قَالَ : فَلَا وَاللَّهِ لَا يَبْيَضُّ أَبَدًا ، وَلَا يَزَالُ هَكَذَا أَبَدًا . ¤ وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَطَاءٍ مَوْلَى السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَرِجَالُ الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کے غلام عطاء بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے آقا سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کی داڑھی کے بال سفید تھے اور سر کے بال سیاہ تھے ، میں نے کہا: اے آقا ! اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ کے سر کے بال سفید نہیں ہوئے ؟ انہوں نے فرمایا : میرے سر کے بال کبھی سفید نہیں ہوں گے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جا رہے تھے ، میں اس وقت بچہ تھا اور دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا ان بچوں میں ، میں بھی موجود تھا ، تمام بچوں میں سے میں نے آپ کو سلام کا جواب دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا : تمہارا نام کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : سائب بن یزید ، جو نمر کا بھانجا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس جگہ پر ہاتھ رکھا تھا ، وہاں کے بال کبھی سفید نہیں ہوں گے ۔

یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، تاہم معجم کبیر میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : سیدنا سائب رضی اللہ عنہ کے سر کا درمیانی حصہ سیاہ تھا اور باقی بال سفید تھے ، تو میں نے اپنے آقا سے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے آپ کے سر کی طرح کی صورت حال کبھی نہیں دیکھی ، یہ والا حصہ سیاہ ہے اور یہ والا حصہ سفید ہے ، تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! کیا میں تمہیں اس کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے فرمایا : ایک مرتبہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ، نہیں اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے ، میں آپ کے سامنے آیا اور میں نے آپ کو سلام کیا ، آپ نے فرمایا : تم پر بھی سلام ہو ، تم کون ہو ؟ میں نے عرض کی : میں سائب بن یزید ہوں ، جو نمر بن قاصد کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے ، انہوں بیان کیا : اللہ کی قسم ! یہ حصہ کبھی سفید نہیں ہو گا اور یہ ہمیشہ اسی طرح رہے گا ۔
معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سیدنا سائب رضی اللہ عنہ کے غلام عطاء کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، معجم صغیر اور معجم اوسط کے رجال بھی ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16145
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح