حدیث نمبر: 16121
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ : لَمَّا بَعَثَتْنِي أُمِّي بِقُطَفٍ ، تَنَاوَلْتُ مِنْهُ قَبْلَ أَنْ أَبْلُغَهُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا جِئْتُ بِهِ مَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ : " أَيَا غُدَرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ الْحِيرَانِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میری والدہ نے مجھے گچھے دے کر بھیجا ، تو میں نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانے سے پہلے ان میں سے کچھ کو کھا لیا ، جب میں وہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا : اے ہیرا پھیری کرنے والے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن بسر حیرانی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16121
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح