مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : قَدِمَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ الطَّائِيُّ الْكُوفَةَ ، فَأَتَيْتُهُ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، فَقُلْنَا لَهُ : حَدِّثْنَا بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالنُّبُوَّةِ وَلَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنِ الْعَرَبِ كَانَ أَشَدَّ لَهُ بُغْضًا ، وَلَا أَشَدَّ كَرَاهِيَةً لَهُ مِنِّي ، حَتَّى خَرَجْتُ فَلَحِقْتُبِالرُّومِ ؛ فَتَنَصَّرْتُ فِيهِمْ ، فَلَمَّا بَلَغَنِي مَا يَدْعُو إِلَيْهِ مِنَ الْأَخْلَاقِ الْحَسَنَةِ ، وَمَا قَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ مِنَ النَّاسِ ، ارْتَحَلْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ ، فَوَقَفْتُ عِنْدَهُ ، وَعِنْدَهُ صُهَيْبٌ وَبِلَالٌ وَسَلْمَانُ ، فَقَالَ : " يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ " . فَقُلْتُ : أَخٍ أَخٍ فَأَنَخْتُ ، فَجَلَسْتُ وَأَلْزَقْتُ رُكْبَتِي بِرُكْبَتِهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْإِسْلَامُ ؟ قَالَ : " تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ ، وَتُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ وَحُلْوِهِ وَمُرِّهِ ، يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَأْتِيَ الظَّعِينَةُ مِنَ الْحِيرَةِ " . - وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ كُوفَةُ - " حَتَّى تَطُوفَ بِهَذِهِ الْكَعْبَةِ بِغَيْرِ خَفِيرٍ ، يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ ، لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَحْمِلَ جِرَابَ الْمَالِ ، فَتَطُوفَ بِهِ فَلَا تَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهُ ، فَتَضْرِبُ بِهِ الْأَرْضَ فَتَقُولُ : لَيْتَكَ لَمْ تَكُنْ ، لَيْتَكَ كُنْتَ تُرَابًا " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ يَسِيرٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لائے ، میں اہل کوفہ سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے ہمراہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا ، ہم نے ان سے کہا: آپ ہمیں ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو , تو انہوں نے بتایا : ” جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ، تو میرے علم کے مطابق عربوں میں کوئی ایسا فرد نہیں ہے ، جو مجھ سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند کرتا ہو اور مجھ سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار سمجھتا ہو ، یہاں تک کہ میں اپنے علاقے سے نکلا اور رومیوں کے ساتھ جا کے مل گیا ، میں نے عیسائیت اختیار کر لی ، جب مجھے یہ اطلاع ملی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کن اچھے اخلاق کی طرف دعوت دیتے ہیں ، لوگ کس طرح ان کے اردگرد اکٹھے ہو رہے ہیں ، تو میں سوار ہوا اور آپ کے پاس آیا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ٹھہر گیا ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صہیب ، بلال ، سلمان موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عدی بن حاتم اسلام قبول کر لو ، تم سلامت رہو گے میں نے کہا: اُخ اُخ ، پھر میں نے سواری کو بٹھایا اور پھر میں بیٹھ گیا ، میرا گھٹنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے سے مس کر رہا تھا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اسلام کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھو اور تم تقدیر پر ایمان رکھو ، خواہ وہ اچھی ہو یا بری ہو ، میٹھی ہو یا کڑوی ہو ، اے عدی بن حاتم ! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک کسریٰ اور قیصر کے خزانے فتح نہیں ہو جائیں گے ، اے عدی بن حاتم ! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک کوئی عورت ” حیرہ “ سے چل کر ، بیت اللہ کا طواف کرنے کے لئے آ جائے گی اور اسے کوئی اندیشہ نہیں ہو گا ، راوی کہتے ہیں : ان دنوں کوفہ تو ہوتا ہی نہیں تھا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عدی بن حاتم ! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک ( یہ نہیں ہو گا کہ ) تم مال کا تھیلا لے کر نکلو گے ، اور چکر لگاؤ گے ، لیکن تمہیں کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا کہ جو اس کو قبول کرے ، تو تم اس مال کو زمین پر مار کر یہ کہو گے : کاش ! تم اس سے پہلے ہوتے ہی نہیں ، یا کاش تم اس سے پہلے مٹی ہو چکے ہوتے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا معمولی سا حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدلاعلیٰ بن ابومساور ہے اور وہ متروک ہے ۔