مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
عَنْ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ الظَّهْرَانِ قَالَ : فَخَرَجْتُ مِنْ خِبَائِي ، فَإِذَا نِسْوَةٌ يَتَحَدَّثْنَ ، فَأَعْجَبَنِي ، فَرَجَعْتُ فَاسْتَخْرَجْتُ عَيْبَتِي ، فَاسْتَخْرَجْتُ مِنْهَا حُلَّةً فَلَبِسْتُهَا ، وَجِئْتُ فَجَلَسْتُ مَعَهُنَّ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَبَا عَبْدِ اللَّهِ " . فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هِبْتُهُ وَاخْتَلَطْتُ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَمَلٌ لِي شَرَدَ وَأَنَا أَبْتَغِي لَهُ قَيْدًا ، فَمَضَى وَاتَّبَعْتُهُ ، فَأَلْقَى إِلَيَّ رِدَاءَهُ وَدَخَلَ الْأَرَاكَ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ مَتْنِهِ فِي خُضْرَةِ الْأَرَاكِ ، فَقَضَى حَاجَتَهُ وَتَوَضَّأَ ، وَأَقْبَلَ وَالْمَاءُ يَسِيلُ مِنْ لِحْيَتِهِ عَلَى صَدْرِهِ ، فَقَالَ : " أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، مَا فَعَلَ شِرَادُ جَمَلِكَ ؟ " . ثُمَّ ارْتَحَلْنَا ، فَجَعَلَ لَا يَلْحَقُنِي فِي الْمَسِيرِ إِلَّا قَالَ : " السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، مَا فَعَلَ شِرَادُ ذَلِكَ الْجَمَلِ ؟ " . فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ تَعَجَّلْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَاجْتَنَبْتُ الْمَسْجِدَ وَمُجَالَسَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ تَحَيَّنْتُ سَاعَةَ خَلْوَةِ الْمَسْجِدِ ، فَخَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ ، وَقُمْتُ أَصَلِّي ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَعْضِ حُجَرِهِ ، فَجَاءَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، وَطَوَّلْتُ رَجَاءَ أَنْ يَذْهَبَ وَيَدَعَنِي ، فَقَالَ : " طَوِّلْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَا شِئْتَ أَنْ تُطَوِّلَ فَلَسْتُ قَائِمًا حَتَّى تَنْصَرِفَ " . فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : وَاللَّهِ لَأَعْتَذِرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَأُبَرِّئَنَّ صَدْرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا انْصَرَفْتُ قَالَ : " السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَا فَعَلَ شِرَادُ جَمَلِكَ ؟ " . فَقُلْتُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا شَرَدَ ذَلِكَ الْجَمَلُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ ، فَقَالَ : " رَحِمَكَ اللَّهُ " - ثَلَاثًا - ثُمَّ لَمْ يَعُدْ لِشَيْءٍ مِمَّا كَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ الْجَرَّاحِ بْنِ مَخْلَدٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ” مرالظہران “ کے مقام پر پڑاؤ کیا ، راوی کہتے ہیں : میں اپنے خیمے سے نکل کے آیا ، وہاں کچھ خواتین بات چیت کر رہی تھیں ، مجھے یہ بات اچھی لگی ، میں واپس گیا ، میں نے اپنا تھیلا نکالا ، اس میں سے عمدہ لباس نکالا اور اسے پہن لیا ، پھر میں آیا اور ان خواتین کے پاس بیٹھ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قبے میں سے باہر تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : اے ابوعبدالله ! جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو میں ہیبت کا شکار ہو گیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا اونٹ سرکش ہو گیا ہے ، میں اس کے لئے رسی تلاش کر رہا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، میں بھی آپ کے پیچھے چلا گیا ، آپ نے اپنی چادر مجھے پکڑا دی ، پھر آپ درختوں کے جھنڈ میں داخل ہو گئے ، درختوں کے سبز پتوں کے درمیان میں آپ کے جسم کی سفیدی کا منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے ، آپ نے قضائے حاجت کی پھر آپ نے وضو کیا پھر آپ تشریف لائے تو آپ کی داڑھی مبارک سے پانی بہہ کر آپ کے سینے پر آ رہا تھا ، آپ نے دریافت کیا : اے ابوعبداللہ تمہارے اونٹ کے سرکش ہونے کا کیا بنا ؟ پھر ہم روانہ ہوئے ، راستے میں جب بھی آپ میرے پاس پہنچتے تھے تو یہی فرماتے تھے : اے ابوعبداللہ ! تم پر سلام ہو ، تمہارے اس اونٹ کے سرکش ہونے کا کیا بنا ؟ جب میں نے یہ صورت حال دیکھی ، تو میں مدینہ منورہ جلدی آ گیا اور میں نے مسجد میں جانے سے اجتناب کیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھنے سے اجتناب کیا ، جب خاصی دیر گزر گئی تو میں ایک ایسے وقت میں مسجد میں آیا ، جس میں مسجد خالی ہوتی ہے ، میں نکل کر مسجد کی طرف آیا ، وہاں نماز ادا کرنے لگا ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی حجرے سے نکلے اور تشریف لائے ، آپ نے دو مختصر رکعات ادا کیں ، میں نے نماز کو طول دیا یہ امید رکھتے ہوئے کہ آپ تشریف لے جائیں گے اور مجھے ایسے ہی رہنے دیں گے ، آپ نے فرمایا : اے ابوعبداللہ ! تم جتنی چاہو میں نماز ادا کرو ، جب تک تم نماز ختم نہیں کرتے ، میں یہاں ٹھہرا ہوا ہوں ، میں نے دل میں سوچا ، اللہ کی قسم ! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ضرور معذرت پیش کروں گا ، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی غلط فہمی کو ضرور ختم کروں گا ، جب میں نے نماز ختم کی تو آپ نے فرمایا : اے ابوعبداللہ ! تم پر سلام ہو ، تمہارے اونٹ کے سرکش ہونے کا کیا بنا ؟ میں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے ، وہ سرکش نہیں ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ فرمایا : اللہ تعالیٰ تم پر حم کرے ! پھر آپ نے دوبارہ کوئی ایسی بات نہیں دُہرائی ، جو پہلے ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رحال ہیں ، صرف جراح بن مخلد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔