مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي حُمَمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت حممہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ : أَنَّ رَجُلًا كَانَ يُقَالُ لَهُ : حُمَمَةُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ إِلَى أَصْبَهَانَ غَازِيًا فِي خِلَافَةِ عُمَرَ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّ حُمَمَةَ يَزْعُمُ أَنَّهُ يُحِبُّ لِقَاءَكَ ، فَإِنْ كَانَ حُمَمَةُ صَادِقًا فَاعْزِمْ لَهُ بِصِدْقِهِ ، وَإِنْ كَانَ كَارِهًا فَأَعْزِمْ لَهُ وَإِنْ كَرِهَ ، اللَّهُمَّ لَا يَرْجِعُ حُمَمَةُ مِنْ سَفَرِهِ هَذَا ، فَأَخَذَهُ الْمَوْتُ - قَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : الْبَطْنُ - فَمَاتَ بِأَصْبَهَانَ . قَالَ : فَقَامَ أَبُو مُوسَى ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، وَاللَّهِ مَا سَمِعْنَا فِيمَا سَمِعْنَا مِنْ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا بَلَغَ عِلْمُنَا إِلَّا أَنَّ حُمَمَةَ شَهِيدٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ خِلَافٌ . ¤حمید بن عبدالرحمن حمیری بیان کرتے ہیں : ایک صاحب تھے جن کا نام سیدنا حممہ رضی اللہ عنہ تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھتے تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں وہ اصبہان کی طرف جنگ میں حصہ لینے کے لئے تشریف لے گئے ، انہوں نے دعا کی اے اللہ ! حممہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ تیری بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے ، تو اگر حممہ اس بات میں سچا ہے ، تو اس کی سچائی کو اس کے لئے پختہ کر دے ، اور اگر وہ اس بات کو ناپسند کرتا ہے ، تو پھر بھی اس کے لئے اس بات کو پختہ کر دے ، اگرچہ وہ اس کو ناپسند کرتا ہو ، اے اللہ ! حممہ اپنے اس سفر سے واپس نہ جائے ، راوی کہتے ہیں : تو موت نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا ، ان کا انتقال اصبہان میں ہوا ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! اللہ کی قسم ! ہم نے تمہارے نبی سے جو باتیں بھی سیکھی ہیں ، اور ہمیں جو بھی علم حاصل ہوا ہے ، اُس کے مطابق ” حممہ“ شہید شمار ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف داؤد بن عبدالله اودی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔