حدیث نمبر: 16091
عَنْ بَشِيرٍ قَالَ : كُنْتُ أُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِذًا بِيَدِي ، فَقَالَ لِي : " يَا ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ ، مَا أَصْبَحْتَ تَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - ؟ أَصْبَحْتَ تُمَاشِي رَسُولَهُ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - آخِذًا بِيَدِهِ " . قَالَ : قُلْتُ : مَا أَصْبَحْتُ أَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ شَيْئًا ؛ قَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - كُلَّ خَيْرٍ . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : كُلَّ خَيْرٍ صَنَعَ اللَّهُ لِي . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا ، آپ نے مجھ سے فرمایا : اے ابن خصاصیہ ! تمہیں اللہ تعالیٰ پر کس بات کا اعتراض ہے ؟ کہ تم اللہ کے رسول کے ساتھ چل رہے ہو ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : مجھے اللہ تعالیٰ پر کسی چیز کا اعتراض نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کی بھلائی عطا کی ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کی بھلائی عطا کی ہے “ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف خالد بن سمیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16091
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1230) أخرجه احمد فى المسند (83/5)»