مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَبِي شُرَيْحٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت ابوشریح رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ : قَالَ أَبُو شُرَيْحٍ : مَنْ رَآنِي أُلَاحِي خَتَنًا لِي ، أَفْرَشَنِي كَرِيمَتَهُ ، وَأَفْرَشْتُهُ كَرِيمَتِي ؛ فَأَنَا يَوْمَئِذٍ مَجْنُونٌ ؛ فَاكْوُوا رَأْسِي . وَمَنْ رَأَى لِأَبِي شُرَيْحٍ جَدْيًا أَوْ لَبَنًا يُبَاعُ ؛ فَهُوَ نَهْبٌ . وَمَنْ رَآنِي أُحَادُّ جَارًا فِي لَبِنَةٍ ؛ فَأَنَا مَجْنُونٌ ؛ فَاكْوُوا رَأْسِي . ¤ قَالَ : فَاخْتَبَرَهُ جَارٌ لَهُ - يُقَالُ لَهُ : عَرْفَجَةُ - فَأَخَذَ مِنْ دَارِهِ عَشَرَةَ أَذْرُعٍ ، فَقَالُوا لَهُ : يَا أَبَا شُرَيْحٍ ، إِنَّهُ أَخَذَ مِنْ دَارِكَ عَشَرَةَ أَذْرُعٍ قَالَ : هُوَ أَعْلَمُ ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ جَارُهُ بَعْدُ ، وَرَجَعَ إِلَى حَقِّهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سعید مقبری بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوشریح رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو شخص مجھے یہ دیکھے کہ میں اپنے سسرالی عزیز کے ساتھ لڑائی کر رہا ہوں ، خواہ وہ میرا سسر بنتا ہو ، یا میں اس کا سسر بنتا ہوؤں ، تو اس وقت میں پاگل ہو گیا ہوؤں گا ، تم میرے سر میں داغ لگانا اور جو شخص ابوشریح کا جانور فروخت ہوتے ہوئے دیکھے ، تو وہ اچک لیا گیا ہو گا اور جو شخص مجھے دیکھے کہ میں کسی اینٹ کی وجہ سے اپنے پڑوسی کے ساتھ جھگڑا کر رہا ہوں تو میں پاگل ہو گیا ہوؤں گا ، تم میرے سر میں داغ لگانا ۔
راوی کہتے ہیں : میں نے اُن کے پڑوسی ، جن کا نام عرفجہ تھا ، اُن سے اس کے بارے میں دریافت کیا ، انہوں نے اس کے گھر میں سے دس بالشت کا حصہ لے لیا تھا ، تو لوگوں نے ان سے کہا: اے ابوشریح ! اس نے آپ کے گھر میں سے دس بالشت کا حصہ لے لیا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : وہ زیادہ بہتر جانتا ہے ، بعد میں اُن کے پڑوسی نے وہ جگہ ان کو واپس کر دی اور ان کے حق کی طرف رجوع کر لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔