مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ : أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ لِقَوْمِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ : أَيْ قَوْمِ ، إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ الْمُلُوكَ وَكَلَّمْتُهُمْ ، فَابْعَثُونِي إِلَى مُحَمَّدٍ فَأُكَلِّمَهُ ، فَأَتَاهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ ، فَجَعَلَ عُرْوَةُ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَتَنَاوَلُ لِحْيَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ شَاكٍ فِي السِّلَاحِ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ الْمُغِيرَةُ : كُفَّ يَدَكَ قَبْلَ أَنْ لَا تَصِلَ إِلَيْكَ ، فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ فَقَالَ : أَنْتَ هُوَ وَاللَّهِ ، إِنِّي لَفِي غَدْرَتِكَ ، مَا أُخْرِجْتُ مِنْهَا بَعْدُ . فَرَجَعَ عُرْوَةُ إِلَى قَوْمِهِ ، فَقَالَ : أَيْ قَوْمِ ، إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ الْمُلُوكَ وَكَلَّمْتُهُمْ ، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَطُّ وَمَا هُوَ بِمَلِكٍ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ الْهَدْيَ مَعْكُوفًا يَأْكُلُ وَبَرَهُ ، وَمَا أَرَاكُمْ إِلَّا سَيُصِيبُكُمْ قَارِعَةٌ . فَانْصَرَفَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ قَوْمِهِ ، فَصَعِدَ سُورَ الطَّائِفِ فَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَ صَاحِبِ يَاسِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مُرْسَلًا ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤علی بن زید بن جدعان بیان کرتے ہیں : سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حدیبیہ کے زمانے میں اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم ! میں نے بادشاہوں کو دیکھا ہوا ہے اور ان کے ساتھ بات چیت کی ہوئی ہے ، تم مجھے اُن ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف جانے دو ، تاکہ میں ان کے ساتھ بات چیت کروں ، پھر وہ حدیبیہ کے مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، عروہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات کرنے لگے ، اس دوران وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کو بھی ہاتھ لگا لیتے تھے ، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے ہتھیار لہرا کر کھڑے ہوئے تھے ، سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے عروہ سے کہا: اپنا ہاتھ پیچھے رکھو ! اس سے پہلے کہ وہ تمہارے پاس نہ آئے ، عروہ نے سر اٹھا کر دیکھا اور بولا: اللہ کی قسم ! تم وہی فرد ہو کہ میں تمہاری عہد شکنیوں کا جرمانہ بھگت رہا ہوں اور وہ ابھی تک پورا نہیں ہو پایا ، پھر عروہ اپنی قوم کے پاس واپس گئے اور بولے : اے میری قوم ! میں نے بادشاہوں کو دیکھا ہے اور ان کے ساتھ بات چیت کی ہے ، اللہ کی قسم ! میں نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا فرد کوئی نہیں دیکھا ، وہ بادشاہ نہیں ہیں ، میں نے قربانی کے جانوروں کو دیکھا ہے ، اور تم لوگوں کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ عنقریب تمہیں بھی نقصان لاحق ہو گا ، پھر وہ اور ان کی قوم کے کچھ افراد ان کے ساتھ واپس آئے ، وہ لوگ طائف کی ایک قلعے کی دیوار پر چڑھے اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، تو اُن کی قوم کے ایک فرد نے انہیں تیر مار کر انہیں قتل کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے میری امت میں یٰسین کے ساتھی جیسا فرد بنایا ہے ۔ “ یہ امام ابویعلیٰ ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔