مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ عُرْوَةَ - يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ - قَالَ : لَمَّا أَنْشَأَ النَّاسُ الْحَجَّ سَنَةَ تِسْعٍ ، قَدِمَ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْلِمًا ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَرْجِعَ إِلَى قَوْمِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَقْتُلُوكَ " . قَالَ : لَوْ وَجَدُونِي نَائِمًا أَيْقَظُونِي ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ مُسْلِمًا ، فَرَجَعَ عِشَاءً ، فَجَاءَ ثَقِيفٌ يُحْيُونَهُ ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَاتَّهَمُوهُ وَأَغْضَبُوهُ ، وَأَسْمَعُوهُ مَا لَمْ يَكُنْ يَحْتَسِبُ ثُمَّ خَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ ، فَلَمَّا أَسْحَرُوا وَاطَّلَعَ الْفَجْرُ قَامَ عُرْوَةُ عَلَى غُرْفَةٍ فِي دَارِهِ فَأَذَّنَ لِلصَّلَاةِ وَتَشَهَّدَ فَرَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ عُرْوَةَ مِثْلُ صَاحِبِ يَاسِينَ ؛ دَعَا قَوْمَهُ إِلَى اللَّهِ فَقَتَلُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرَوَى عَنِ الزُّهْرِيِّ نَحْوَهُ ، وَكِلَاهُمَا مُرْسَلٌ ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سن 9 ہجری میں ، جب لوگ حج کے لئے گئے ، تو سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسلمان ہو کر حاضر ہوئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اجازت مانگی کہ وہ اپنی قوم کی طرف واپس چلے جائیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ تمہیں قتل کر دیں گے ، انہوں نے عرض کی : اگر وہ لوگ مجھے سویا ہوا پائیں ، تو مجھے بیدار کر دیتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دیدی ، وہ مسلمان ہو کر اپنی قوم کی طرف واپس چلے گئے ، وہ رات کے وقت واپس پہنچے ، ثقیف قبیلے کے لوگ آئے اور انہیں سلام کرنے لگے ، انہوں نے ان لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دی ، تو ان لوگوں نے ان پر تہمت لگائی اور ان کے خلاف غصے کا اظہار کیا اور انہیں ایسی باتیں سنائیں کہ جن کے بارے میں وہ توقع نہیں کر رہے تھے ، پھر وہ لوگ سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے اُٹھ کر چلے گئے ، جب سحری کا وقت ہوا اور صبح صادق طلوع ہونے لگی ، تو سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ اپنے گھر کے بالاخانے پر کھڑے ہوئے ، انہوں نے نماز کے لئے اذان دی اور شہادت کے کلمات پڑھے ، تو ثقیف قبیلے کے ایک شخص نے انہیں تیر مار کر انہیں شہید کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عروہ کی مثال یٰسین کے ساتھی کی مانند ہے کہ جس نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف دعوت دی تھی ، تو اُن لوگوں نے اسے قتل کر دیا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے زہری کے حوالے سے
یہ روایت اس کی مانند نقل کی گئی ہے ، یہ دونوں روایات ” مرسل “ ہیں اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔