مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عکرمہ بن ابوجہل رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ جِئْتُهُ : " مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِرِ ، مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِرِ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَدَعُ نَفَقَةً عَلَيْكَ إِلَّا أَنْفَقْتُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ . قُلْتُ : عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ : مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِرِ . فَقَطْ مَرَّةً وَاحِدَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عِكْرِمَةَ . ¤سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : جس دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہجرت کرنے والے سوار کو خوش آمدید ، ہجرت کرنے والے سوار کو خوش آمدید “ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جتنا کچھ خرچ کیا ہے ، اب اتنی ہی رقم میں اللہ کی راہ میں بھی خرچ کروں گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے صرف ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” ہجرت کرنے والے سوار کو خوش آمدید ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ مصعب بن سعد نے سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔