مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فَرْضُ الصَّلَاةِ . باب: نماز کی فرضیت کا بیان
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ¤ " أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ صَلَاتُهُ ، فَإِنْ كَانَ أَتَمَّهَا كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَتَمَّهَا قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ : هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ تُكْمِلُوا بِهَا فَرِيضَتَهُ ، ثُمَّ الزَّكَاةُ كَذَلِكَ ، ثُمَّ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَ هَذَا ، فَلَا أَدْرِي أَهْوَ هَذَا أَمْ لَا ، وَقَدْ ذَكَرَهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي تَرْجَمَةِ رَجُلٍ غَيْرِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤یحییٰ بن یعمر نے ، ایک صحابی کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” بندے سے ، سب سے پہلے اس کی نماز کے حوالے سے حساب لیا جائے گا ، اگر وہ مکمل ہو گی ، تو اسے مکمل نوٹ کیا جائے گا ، اور اگر وہ مکمل نہیں ہو گی ، تو اللہ تعالی ( فرشتوں سے ) یہ فرمائے گا : کہ کیا تم میرے بندے کی کوئی نفل نماز پاتے ہو ؟ جس کے ذریعے تم فرض نماز کو مکمل کر دو ، پھر زکوٰۃ کا معاملہ بھی اسی طرح ہو گا ، اور پھر دیگر تمام اعمال کا معاملہ بھی اس طرح ہو گا“ ۔
علامہ ہیثمی بیان کرتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے یحییٰ بن یعمر کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کی مانند نقل کی ہے ، مجھے نہیں معلوم کہ کیا وہ یہی حدیث ہے ؟ یا اس کے علاوہ کوئی اور ہے ؟ اس روایت کو امام أحمد نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ ایک اور شخص کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔