مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عکرمہ بن ابوجہل رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيِّ قَالَ : عِكْرَمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ ، لَيْسَ لَهُ عَقِبٌ ، وَكَانَ خَرَجَ هَارِبًا يَوْمَ الْفَتْحِ حَتَّى اسْتَأْمَنَتْ لَهُ زَوْجَتُهُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ أُمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ هِشَامٍ ، فَأَمَّنَهُ . أَدْرَكَتْهُ بِالْيَمَنِ فَرَدَّتْهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ إِلَيْهِ فَاعْتَنَقَهُ ، وَقَالَ : " مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤معصب بن عبداللہ زبیری بیان کرتے ہیں : سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ بن ابوجہل بن ہشام کی اولاد کوئی نہیں ہوئی تھی ، یہ فتح مکہ کے موقع پر بھاگ گئے تھے ، یہاں تک کہ ان کی اہلیہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے لئے امان حاصل کی تھی ، وہ خاتون ام حکیم بنت ہشام ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے امان دیدی ، وہ خاتون یمن میں ان کے پاس گئیں ، اور انہیں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ کیا ، تو آپ اُٹھ کر ان کی طرف گئے اور انہیں گلے لگایا اور فرمایا : ہجرت کرنے والے سوار کو خوش آمدید ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔