حدیث نمبر: 16046
وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : مَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ أَحَدٌ سَمِعْنَا بِهِ كَانَ أَكْثَرَ حَمْلًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ . ¤ قَالَ : لَقَدْ قَدِمَ أَعْرَابِيَّانِ الْمَدِينَةَ يَسْأَلَانِ مَنْ يَحْمِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَدُلَّا عَلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، فَأَتَيَاهُ فِي أَهْلِهِ ، فَسَأَلَهُمَا مَا يُرِيدَانِ فَأَخْبَرَاهُ ، فَقَالَ لَهُمَا : لَا تَعْجَلَا حَتَّى أَخْرُجَ إِلَيْكُمَا ، وَكَانَ حَكِيمٌ يَلْبَسُ ثِيَابًا يُؤْتَى بِهَا مِنْ مِصْرَ كَأَنَّهَا الشِّبَاكُ ، ثَمَنُهَا أَرْبَعَةُ دَرَاهِمَ ، وَيَأْخُذُ عَصًا فِي يَدِهِ وَيَخْرُجُ وَمَعَهُ غُلَامَانِ لَهُ ، وَكُلَّمَا مَرَّ بِكُنَاسَةٍ - أَوْ قُمَامَةٍ - فَرَأَى فِيهَا خِرْقَةً تَصْلُحُ فِي جِهَازِ الْإِبِلِ الَّتِي يَحْمِلُ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَخَذَهَا بِطَرَفِ عَصَاهُ فَنَفَضَهَا ، ثُمَّ قَالَ لِغُلَامَيْهِ : أَمْسِكَا فَاسْتَعِينَا فِي جِهَازِكُمَا ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيَّانِ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ وَهُوَ يَصْنَعُ ذَلِكَ : وَيْحَكَ ! انْجُ بِنَا ؛ فَوَاللَّهِ مَا عِنْدَ هَذَا إِلَّا لُقَطُ الْقَشْعِ ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ : وَيْحَكَ ! لَا تَعْجَلْ حَتَّى نَنْظُرَ ، فَخَرَجَ بِهِمَا إِلَى السُّوقِ فَنَظَرَ إِلَى نَاقَتَيْنِ جَلِيلَتَيْنِ سَمِينَتَيْنِ خَلِفَتَيْنِ ، فَابْتَاعَهُمَا وَابْتَاعَ جِهَازَهُمَا ، ثُمَّ قَالَ لِغُلَامَيْهِ : رُمَّا بِهَذِهِ الْخِرَقِ مَا يَنْبَغِي لَهُ الْمَرَمَّةُ مِنْ جِهَازِكُمَا ، ثُمَّ أَوْقَرَهُمَا طَعَامًا وَبُرًّا وَوَدَكًا ، ثُمَّ أَعْطَاهُمَا نَفَقَةً ، ثُمَّ أَعْطَاهُمَا النَّاقَتَيْنِ . ¤ قَالَ : يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِنْ لَاقِطِ قَشْعٍ خَيْرًا مِنَ الْيَوْمِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین

ابوحازم بیان کرتے ہیں : مدینہ منورہ میں کوئی ایسا فرد نہیں تھا ، جس کے بارے میں ہم نے یہ سنا ہو کہ وہ سیدنا حکیم بن خزام رضی اللہ عنہ اس سے زیادہ اللہ کی راہ میں سواری کے لئے جانور دیتا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ دو دیہاتی مدینہ منورہ آئے ، انہوں نے دریافت کیا : کون شخص انہیں اللہ کی راہ میں سواری کے جانور فراہم کرے گا ؟ تو ان دونوں کی رہنمائی سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی طرف کی گئی ، وہ دونوں سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں ؟ ان دونوں نے بتایا : تو سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے کہا: تم جلدی نہ کرو ، میں نکل کر تمہارے پاس آتا ہوں ، سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ ایسے کپڑے پہنتے تھے جو مصر سے ان کے پاس لائے جاتے تھے ، جو شباک کی مانند ہوتے تھے ، جن کی قیمت چار درہم ہوتی تھی ، وہ اپنے ہاتھ میں ایک عصا پکڑ لیتے تھے ، ان کے ساتھ ان کے دو غلام بھی ہوتے تھے ، جب بھی وہ کچرے کے پاس سے گزرتے تھے اور اس میں وہ کوئی کپڑا دیکھتے تھے ، جو اونٹ کے لئے استعمال ہو سکتا تھا ، جو انہوں نے اللہ کی راہ میں سواری کے لئے دینا ہوتا ، تو وہ اپنے عصا کے کنارے کے ذریعے اس کپڑے کو لیتے تھے اسے جھاڑتے تھے اور پھر اپنے غلاموں سے کہتے تھے کہ اس کو پکڑ لو اور اس کے ذریعے تم اپنے سامان میں مدد حاصل کرنا ، ان دونوں دیہاتیوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ، جبکہ وہ یہ کر رہے تھے : تمہارا ستیاناس ہو تم ہمیں لے کے چلو ، اللہ کی قسم ! ہمیں ان صاحب کے پاس سے صرف وہ چیز ہی ملے گی ، جو کہیں گری پڑی ہوئی ہی ملتی ہے ، تو اس کے ساتھی نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ، تم جلدبازی نہ کرو ، جب تک ہم جائزہ نہیں لے لیتے ، پھر سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ ان دونوں کو ساتھ لے کر بازار گئے ، وہاں انہوں نے دو بڑی موٹی تازی عمدہ قسم کی اونٹنیاں دیکھیں ، انہیں خریدا ، ان کا ساز و سامان خریدا ، پھر انہوں نے اپنے غلاموں سے کہا: اس کپڑے میں جو آتا ہے اس میں ڈال دو ، پھر سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو اناج اور گندم اور چربی بھی لے کر دی ، اور ان دونوں کو خرچ بھی فراہم کیا اور وہ اونٹنیاں بھی انہیں عطا کر دیں ۔ راوی کہتے ہیں : ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے آج کے دن اس کچرا اٹھانے والے شخص سے زیادہ بہتر شخص کوئی نہیں دیکھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16046
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف, قال الهيثمي: رواه الطبراني، وفيه عبد الحميد بن سليمان، وهو ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3074)»