مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 16042
عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِئِ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ : عَاشَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ عِشْرِينَ وَمِائَةَ سَنَةٍ ، سِتِّينَ فِي الْإِسْلَامِ وَسِتِّينَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَكَانَ إِذَا اسْتَغْلَظَ فِي الْيَمِينِ قَالَ : لَا وَالَّذِي أَنْعَمَ عَلَى حَكِيمٍ أَنْ يَكُونَ قَتِيلًا يَوْمَ بَدْرٍ لَا أَفْعَلُ كَذَا وَكَذَا ، فَلَا يَفْعَلُهُ [ وَيُكَنَّى أَبَا خَالِدٍ ] . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
یعقوب بن عبدالرحمن قاری بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ ایک سو بیس سال تک زندہ رہے تھے ، ساٹھ سال زمانہ اسلام میں رہے تھے اور ساٹھ کی زندگی زمانہ جاہلیت میں گزاری تھی ، جب وہ کسی قسم میں شدت کا مفہوم ظاہر کرنا چاہتے تھے تو یہ کہتے تھے : جی نہیں ! اس ذات کی قسم ! جس نے حکیم کو یہ انعام عطا کیا کہ وہ غزوہ بدر کے دن مارا نہیں گیا ، میں ایسا نہیں کروں گا ، تو وہ ویسا نہیں کرتے تھے ، ان کی کنیت ” ابوخالد “ تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قول کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔