مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : ثِنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ قَالَ : وَيُكَنَّى عِمْرَانُ : أَبَا نُجَيْدٍ ، أَسْلَمَ قَدِيمًا هُوَ وَأَبُوهُ ، وَغَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَزَوَاتٍ . وَلَمْ يَزَلْ فِي بِلَادِ قَوْمِهِ وَيَنْزِلُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَثِيرًا ، إِلَى أَنْ قُبِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَحَوَّلَ إِلَى الْبَصْرَةِ فَنَزَلَهَا إِلَى أَنْ مَاتَ بِهَا ، وَلَهُ بَقِيَّةٌ مِنْ وَلَدٍ . ¤ وَخَالِدُ بْنُ طُلَيْقِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَلِيَ قَضَاءَ الْبَصْرَةِ . ¤ وَيُقَالُ : إِنَّ حُصَيْنًا مَاتَ مُسْلِمًا ، وَقَدْ وَرَدَ أَنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا ، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ أَسْلَمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤امام طبرانی بیان کرتے ہیں : عبیداللہ بن محمد نے ہمیں یہ بات بیان کی ہے : سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کی کنیت ” ابونجیح “ تھی ، وہ بہت پہلے اسلام قبول کر چکے تھے ، ان کے والد نے بھی اسلام قبول کیا تھا ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کئی غزوات میں حصہ لیا ہے ، یہ مسلسل اپنے علاقے میں رہائش پذیر رہے اور مدینہ منورہ بہت زیادہ آ کر ٹھہرتے تھے ، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو یہ بصرہ آ کر ٹھہر گئے اور انتقال کرنے تک یہ وہیں مقیم رہے ، اور وہیں اُن کا انتقال ہوا ، ان کی اولاد بھی ہوئی تھی ۔ ان کی اولاد میں سے خالد بن طلیق بن محمد بن عمران بن حصین ، بصرہ کے قاضی بھی بنے تھے ۔ ایک قول کے مطابق ، ان کے والد سیدنا حصین رضی اللہ عنہ کا مسلمان ہونے کے عالم میں انتقال ہوا تھا ، اور یہ بات بھی منقول ہے کہ وہ مشرک ہونے کے عالم میں فوت ہوئے تھے ، تاہم زیادہ مستند روایت یہ ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔