حدیث نمبر: 16025
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَعَثَ فَرْوَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُذَامِيُّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِسْلَامِهِ ، وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً بَيْضَاءَ ، وَكَانَ فَرْوَةُ عَامِلًا لِقَيْصَرَ مَلِكِ الرُّومِ عَلَى مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ ، وَكَانَ مَنْزِلُهُ بِعُمَانَ وَمَا حَوْلَهَا ، فَلَمَّا بَلَغَ الرُّومَ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهِ حَبَسُوهُ ، فَقَالَ فِي مَحْبَسِهِ : ¤ طَرَقَتْ سُلَيْمَى مُوهِنًا أَصْحَابِي وَالرُّومُ بَيْنَ النَّاسِ وَالَقَرَوَانِي صَدَّ الْخَيَالُ وَسَاءَنِي مَا قَدْ أَرَى ¤ فَهَمَمْتُ أَنْ أُعْفِي وَقَدْ أَبْكَانِي فَلَا تُكْحِلَنَّ الْعَيْنَ بَعْدِي إِثْمِدًا ¤ سَلْمَى وَلَا بَرِّينَ لِلْإِيمانِ وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَبَا كُبَيْشَةَ أَنَّنِي ¤ وَسَطَ الْأَعِزَّةِ لَا يُحِسُّ لِسَانِي وَلَئِنْ هَلَكْتُ لَيُفْقَدَنَّ أَخَاكُمُ ¤ وَلَئِنْ أَصَبْتُ لَيُعْرَفَنَّ مَكَانِي وَلَقَدْ عُرِفْتُ بِكُلِّ مَا جَمَعَ الْفَتَى ¤ مِنْ رَأْيِهِ وَبِنَجْدَةٍ وَبَيَانِ . ¤ فَلَمَّا جَمَعُوا لَهُ وَصَلَبُوهُ عَلَى مَاءٍ يُقَالُ لَهُ : عَفْرَاءُ بِفِلَسْطِينَ ، فَلَمَّا رُفِعَ عَلَى خَشَبَةٍ قَالَ : ¤ أَلَا هَلْ أَتَى سَلْمَى بِأَنَّ حَلِيلَهَا عَلَى مَاءِ عَفْرَا فَوْقَ إِحْدَى الرَّوَاحِلِ ¤ بِحَدَّافَةٍ لَمْ يَضْرِبِ الْفَحْلُ أُمَّهَا مُشَذِّيَةً أَطْرَافُهَا بِالْمَنَاجِلِ ¤ . ¤ وَقَالَ : بَلِّغْ سَرَاةَ الْمُسْلِمِينَ بِأَنَّنِي سِلْمٌ لِرَبِّي أَعْظُمِي وَبَنَانِي ¤ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةَ الرِّبْعِيِّ ، ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا فروہ بن عامر جذامی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اسلام قبول کرنے کا پیغام بھیجا اور آپ کی خدمت میں ایک سفید خچر تحفے کے طور پر بھیجا ، فروہ ، روم کے حکمران قیصر کی طرف سے ، عرب کے قریبی علاقوں کے گورنر تھے ، وہ عمان میں رہتے تھے ، جب رومیوں کو ان کے معاملے کا پتہ چلا تو انہوں نے سیدنا فروہ رضی اللہ عنہ کو قید کر دیا ( وہاں انہوں نے یہ اشعار کہے : ) ” سلیمیٰ ، نصف رات کے لگ بھگ ، میرے ساتھیوں کو لے کر نکلی ، جبکہ ان لوگوں اور سواریوں کے درمیان رومی موجود تھے ، خیال رک گیا ، اور جو میں نے دیکھا وہ مجھے برا لگا ، میں نے ارادہ کیا کہ میں ذرا اونگھ لوں ، لیکن اس نے مجھے رلا دیا ، تم میرے بعد کبھی بھی آنکھوں میں اثمد سرمہ نہ لگانا ، اے سلمی ! اور تم ایمان کو ظاہر نہ کرنا ، اے ابوکبیشہ ! آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں طاقتور لوگوں کے درمیان ہوں ، لیکن میری زبان کو جڑ سے نہیں کاٹا گیا ، اگر میں ہلاک ہو گیا تو تمہارے بھائی کی غیر موجودگی محسوس کی جائے گی اور اگر میں ( ان تک پہنچ گیا تو وہ میری حیثیت سے آشنا ہوں گے ، اور میری پہچان ہر اس چیز کے حوالے سے ہو گی جس کو کوئی جوانمرد جمع کرتا ہے ، جس کا تعلق عقلمندی ، بہادری اور قادر الکلامی سے ہے ۔ “ جب ان لوگوں نے یہ طے کر لیا کہ انہیں مصلوب کرنا ہے تو ان لوگوں نے انہیں ایک پانی ( کے چشمے یا تالاب ) کے پاس مصلوب کرنے کا فیصلہ کیا ، جس کا نام ” عفراء “ تھا ، جب انہیں لکڑی پر بلند کیا گیا ، تو انہوں نے کہا: ” کیا سلمیٰ کو یہ اطلاع مل گئی ہے کہ اس کا شوہر عفراء نامی پانی ( کے چشمے یا تالاب ) کے پاس ایک لکڑی پر موجود ہے ، ایک ایسی حدافہ کہ کسی نر نے اس کی ماں کے ساتھ قربت نہیں کی ، اور وہ اپنی خوشبو اس جگہ پھیلا رہی ہے جہاں ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں گے ۔ “ انہوں نے یہ بھی کہا: ” مسلمانوں کے سرداروں کو یہ پیغام پہنچا دو ! کہ میں ایسی حالت میں ہوں کہ میری ہڈیاں اور میری پوریں اپنے پروردگار ( کے حکم ) کے آگے جھکے ہوئے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوسلمہ بن ربعی ہے جسے امام ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16025
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (326/18)»