حدیث نمبر: 15993
وَعَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ : أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ ، وَكَانَ لَهُ بَيْتٌ قَدْ أَخْلَاهُ لِلْحَدِيثِ ، فَمُرَّ عَلَيْهِ بِكَبْشٍ ، فَقَالَ لِصَاحِبِهِ : بِكَمْ أَخَذْتَهُ ؟ فَقَالَ : بِاثْنَيْ عَشَرَ دِرْهَمًا ، فَقُلْتُ : لَوْ كَانَ مَعِي اثْنَا عَشَرَ دِرْهَمًا اشْتَرَيْتُ بِهَا كَبْشًا ، فَضَحَّيْتُ وَأَطْعَمْتُ عِيَالِي ، فَلَمَّا قُمْتُ اتَّبَعَنِي رَسُولُ عُثْمَانَ بِصُرَّةٍ فِيهَا خَمْسُونَ دِرْهَمًا ، فَمَا رَأَيْتُ دَرَاهِمَ قَطُّ كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهَا ، أَعْطَانِي وَهُوَ لَهَا مُحْتَسِبٌ وَأَنَا إِلَيْهَا مُحْتَاجٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابونضرہ بیان کرتے ہیں : میں ، سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ، دس دنوں میں حاضر ہوا ( شاید اس سے مراد یہ ہے کہ ذوالحج کے پہلے عشرے میں حاضر ہوا ) اُن کا ایک کمرہ تھا ، جسے انہوں نے بات چیت کے لئے مخصوص کیا ہوا تھا ، ایک دنبہ ان کے پاس سے گزرا ، انہوں نے دنبے کے مالک سے دریافت کیا : تم نے یہ کتنے کے عوض میں خریدا ہے ؟ اس نے بتایا : بارہ درہم کے عوض میں ، راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: اگر میرے پاس بارہ درہم ہوتے ، تو میں نے اس کے عوض میں دنبہ خرید لینا تھا اور قربانی کر لینی تھی ، اور اپنے گھر والوں کو کھانا کھلانا تھا ، جب میں ان کے پاس سے اٹھا تو میرے پیچھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا قاصد ایک تھیلی لے کے آیا جس میں پچاس درہم موجود تھے میں نے ان سے زیادہ برکت والے درہم کبھی نہیں دیکھے ، انہوں نے وہ مجھے دیدیے اور وہ اس کے ذریعے ثواب کی امید رکھتے تھے اور مجھے ان کی ضرورت تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15993
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8330)»