مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فَرْضُ الصَّلَاةِ . باب: نماز کی فرضیت کا بیان
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَوَّلَ مَا افْتَرَضَ اللَّهُ - تَعَالَى - عَلَى النَّاسِ مِنْ دِينِهِمُ الصَّلَاةُ ، وَآخَرُ مَا يَبْقَى الصَّلَاةُ ، وَأَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلَاةُ ، يَقُولُ اللَّهُ : انْظُرُوا فِي صَلَاةِ عَبْدِي ، فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ تَامَّةً ، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً قَالَ : انْظُرُوا هَلْ لَهُ مِنْ تَطَوُّعٍ ؟ فَإِنْ وُجِدَ لَهُ تَطَوُّعٌ تَمَّتِ الْفَرِيضَةُ مِنَ التَّطَوُّعِ ، ثُمَّ قَالَ : انْظُرُوا هَلْ زَكَاتُهُ تَامَّةٌ ؟ فَإِنْ وُجِدَتْ زَكَاتُهُ تَامَّةً كُتِبَتْ تَامَّةً ، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً قَالَ : انْظُرُوا هَلْ لَهُ صَدَقَةٌ ؟ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ تَمَّتْ لَهُ زَكَاتُهُ مِنَ الصَّدَقَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ عَدِيٍّ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے بندوں پر ، اُن کے دین کے حوالے سے ، سب سے پہلے اُن پر نماز فرض کی ہے ، اور آخری باقی رہ جانے والی چیز بھی نماز ہے ، بندے سے سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائے گا ، وہ نماز ہے ، اللہ تعالی ( فرشتوں سے ) فرمائے گا : میرے بندے کی نماز کا جائزہ لو ! اگر وہ مکمل ہوئی ، تو وہ مکمل نوٹ کی جائے گی ، اور اگر وہ ناقص ہوئی ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم اس بات کا جائزہ لو ! کہ کیا اس کی کوئی نفل نماز ہے ؟ اگر اس کی کوئی نفل نماز مل گئی ، تو نفل کے ذریعے اُس کے فریضے کو مکمل کر دیا جائے گا ، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اس بات کا جائزہ لو ! کہ کیا اس کی زکوٰۃ مکمل ہے ؟ تو اگر اس بندے کی زکوٰۃ مکمل پائی گئی ، تو وہ مکمل نوٹ کی جائے گی ، اور اگر وہ ناقص ہوئی ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اس بات کا جائزہ لو ! کہ کیا اس نے کوئی صدقہ کیا ہے ؟ اگر اس کا کوئی صدقہ ہوا ، تو صدقے کے ذریعے اس کی زکوٰۃ کو مکمل کیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے ، جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، یحییٰ بن معین اور ابن عدی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔