حدیث نمبر: 15966
عَنْ سَعْدٍ - مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ - قَالَ : شَكَا رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ ، وَكَانَ يَقُولُ هَذَا الشِّعْرَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَفْوَانُ هَجَانِي ، فَقَالَ : " دَعُوا صَفْوَانَ ; فَإِنَّ صَفْوَانَ خَبِيثُ اللِّسَانِ طَيِّبُ الْقَلْبِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَامِرُ بْنُ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا " . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام سعد بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کی شکایت کی کہ وہ یہ شعر کہتے ہیں ، تو اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! صفوان نے اس شاعری کے ذریعے میری ہجو بیان کی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : صفوان کو رہنے دو ! کیونکہ صفوان کی زبان تیز ہے اور اس کا دل پاکیزہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عامر بن صالح بن رستم ہے جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح“ میں یہ بات ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : ” مجھے اُس کے بارے میں ، صرف بھلائی کا علم ہے ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15966
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5495)»