حدیث نمبر: 15959
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : حَدِّثُونِي عَنْ رَجُلٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ لَمْ يُصَلِّ قَطُّ ، فَإِذَا لَمْ يَعْرِفْهُ النَّاسُ ، سَأَلُوهُ : مَنْ هُوَ ؟ فَيَقُولُ : أُصَيْرِمُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ : عَمْرُو بْنُ ثَابِتِ بْنِ وَقْشٍ . قَالَ الْحُصَيْنُ : فَقُلْتُ لِمَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ : كَيْفَ كَانَ شَأْنُ الْأُصَيْرِمِ ؟ قَالَ : كَانَ يَأْبَى الْإِسْلَامَ عَلَى قَوْمِهِ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أُحُدٍ بَدَا لَهُ الْإِسْلَامُ فَأَسْلَمَ ، فَأَخَذَ سَيْفَهُ فَغَدَا حَتَّى أَتَى الْقَوْمَ ، فَدَخَلَ فِي عَرْضِ النَّاسِ ، فَقَاتَلَ حَتَّى أَثْبَتَتْهُ الْجِرَاحَةُ . فَبَيْنَا رِجَالُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ يَلْتَمِسُونَ قَتْلَاهُمْ فِي الْمَعْرَكَةِ إِذَا هُمْ بِهِ قَالُوا : وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَلْأُصَيْرِمُ ، وَمَا جَاءَ بِهِ ، لَقَدْ تَرَكْنَاهُ وَإِنَّهُ لَمُنْكِرٌ لِهَذَا الْحَدِيثِ ! فَسَأَلُوهُ : مَا جَاءَ بِهِ ؟ فَقَالُوا : مَا جَاءَ بِكَ يَا عَمْرُو ؟ ! أَحَدَثًا عَلَى قَوْمِكَ ، أَوْ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ ؟ فَقَالَ : بَلْ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ ، آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَأَسْلَمْتُ ، ثُمَّ أَخَذْتُ سَيْفِي فَغَدَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَاتَلْتُ حَتَّى أَصَابَنِي مَا أَصَابَنِي . فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ مَاتَ فِي أَيْدِيهِمْ ، فَذَكَرُوهُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ یہ فرماتے تھے : تم لوگ مجھے اس شخص کے بارے میں بتاؤ جو جنت میں داخل ہو گا اور اس نے کبھی کوئی نماز بھی ادا نہیں کی ، جب لوگوں نے اس شخص کو نہیں پہچانا تو انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : وہ شخص کون ہے ؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : ” اصیرم “ جس کا تعلق بنو عبداشہل سے تھا ، اُس کا نام عمرو بن ثابت بن وقش تھا ۔ حصین نامی راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : ” اصیرم“ کا کیا معاملہ ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : اپنی قوم میں سے اس شخص نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ، جب غزوہ احد کا موقع آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد کی طرف تشریف لے جانے کے لئے نکلے تو اس شخص کو خیال آیا کہ وہ اسلام قبول کر لے ، تو وہ مسلمان ہو گیا اس نے اپنی تلوار لی اور دشمن کی طرف بڑھا اور دشمن کے درمیان داخل ہو گیا اور لڑائی کرتا رہا یہاں تک کہ زخمی ہو گیا ، لڑائی کے بعد بنو عبداشہل کے افراد جنگ میں اپنے مقتولین تلاش کر رہے تھے ، وہاں وہ شخص بھی موجود تھا ، لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ تو ” اصیرم“ کی لاش ہے ، یہ یہاں کیسے آ گیا ہے ؟ ہم تو اسے چھوڑ کے آئے تھے ، اور یہ شخص تو اس بات کا ( یعنی اسلام کا ) انکار کرتا تھا ، پھر ان لوگوں نے اس سے دریافت کیا : کہ وہ وہاں کیسے آیا ، انہوں نے دریافت کیا : اے عمرو ! تم یہاں کیوں آئے تھے ؟ کیا تمہاری قوم میں کوئی ایسا واقعہ پیش آ گیا تھا ؟ یا اسلام میں رغبت رکھتے ہوئے تم آئے تھے ؟ تو انہوں نے کہا: بلکہ اسلام میں رغبت رکھتے ہوئے آیا ہوں ، میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا ہوں اور میں نے اسلام قبول کیا ، پھر میں نے اپنی تلوار لی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوا اور لڑائی کرتا رہا ، یہاں تک کہ میری یہ صورت حال ہو گئی ، راوی بیان کرتے ہیں : اس کے تھوڑی دیر بعد اُن لوگوں کے ہاتھوں میں اُس شخص کا انتقال ہو گیا ، لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ اہل جنت میں سے ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15959
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (428/5)»