حدیث نمبر: 15943
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَعَدَ أَبُو مُوسَى فِي بَيْتِهِ ، وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ ، فَأَنْشَأَ يَقْرَأُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ . قَالَ : فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أَعْجَبَكَ مِنْ أَبِي مُوسَى ، قَعَدَ فِي بَيْتٍ وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ فَأَنْشَأَ يَقْرَأُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَسْطِيعُ أَنْ تُقْعِدَنِي حَيْثُ لَا يَرَانِي أَحَدٌ مِنْهُمْ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : فَأَقْعَدَهُ الرَّجُلُ حَيْثُ لَا يَرَاهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ ، فَسَمِعَ قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى ، فَقَالَ : " إِنَّهُ يَقْرَأُ عَلَى مِزْمَارٍ مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں بیٹھے تھے ، لوگ ان کے پاس اکٹھے ہوئے ، انہوں نے ان لوگوں کے سامنے قرآن پڑھنا شروع کیا ، راوی کہتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: یا رسول اللہ ! کیا آپ کو سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ پر حیرانگی نہیں ہو رہی ؟ وہ اپنے گھر میں بیٹھے ہیں ، لوگ ان کے پاس اکٹھے ہوئے ہیں اور وہ ان لوگوں کے سامنے قرآن پڑھ رہے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم یہ استطاعت رکھتے ہو ؟ کہ تم مجھے کسی ایسی جگہ پر بٹھا دو جہاں اُن میں سے کوئی مجھے نہ دیکھ سکے ، اس شخص نے کہا: ٹھیک ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، اس شخص نے آپ کو ایک ایسی جگہ بٹھا دیا ، جہاں اُن میں سے کوئی آپ کو نہیں دیکھ سکتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی قرأت سنتے رہے ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ آل داؤد کی خوش الحانی کی طرح تلاوت کر رہا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15943
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4096)»