مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ ثَابِتٍ - مَوْلَى أَبِي سُفْيَانَ - قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَرْضَ الرُّومِ فَوَقَعَ ثِلْبٌ فِي رَحْلِهِ ، فَنَادَى : يَا عِبَادَ اللَّهِ الْمُسْلِمِينَ ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ أَجَابَ مُعَاوِيَةُ ، فَنَزَلَ وَنَزَلَ النَّاسُ وَقَالُوا : نَكْفِي الْأَمِيرَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ أَوَّلَ مَنْ يُغِيثُ جِبْرِيلُ ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ الثَّانِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الزُّبَيْدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے غلام ، ثابت بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے ہمراہ روم کی سرزمین پر ایک جنگ میں حصہ لیا ، ایک ثلب پالان میں گر گیا ( ایک نسخے میں یہ الفاظ ہیں : ایک شخص دریا میں گر گیا ) تو اس نے پکار کر کہا: اے اللہ کے مسلمان بندو ! ( میری مدد کرو ) تو سب سے پہلے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کو جواب دیا ، وہ نیچے اترے لوگ بھی نیچے اتر گئے ، انہوں نے کہا: اے امیر ! ہم آپ کی جگہ کفایت کر لیں گے ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھ تک
یہ روایت پہنچی ہے کہ اس کی مدد کرنے والے پہلے فرد سیدنا جبرائیل تھے ، تو مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں دوسرا بن جاؤں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن عبدالجبار زبیدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔