حدیث نمبر: 15925
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنْتُ قَائِلًا فِي كَنِيسَةٍ بِأَرِيحَا ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مَسْجِدٌ يُصَلَّى فِيهِ قَالَ : فَانْتَبَهَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ مِنْ نَوْمَتِهِ ، فَإِذَا مَعَهُ فِي الْبَيْتِ أَسَدٌ يَمْشِي إِلَيْهِ ، فَقَامَ فَزِعًا إِلَى سِلَاحِهِ ، فَقَالَ لَهُ الْأَسَدُ : صَهٍ ; إِنَّمَا أُرْسِلْتُ إِلَيْكَ بِرِسَالَةٍ لِتُبَلِّغَهَا ، قُلْتُ : مَنْ أَرْسَلَكَ ؟ قَالَ : اللَّهُ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ لِتُعْلِمَ مُعَاوِيَةَ الرَّحَّالَ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، قُلْتُ : مَنْ مُعَاوِيَةُ ؟ قَالَ : ابْنُ أَبِي سُفْيَانَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” اریحا “ کے مقام پر میں ایک گرجا گھر میں آرام کر رہا تھا ، وہ جگہ اس وقت مسجد بن چکی تھی ، جس میں نماز ادا کی جاتی ہے ، راوی کہتے ہیں : سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نیند سے بیدار ہوئے ، تو گھر میں ان کے ساتھ ایک شیر موجود تھا ، جو چلتا ہوا اُن کی طرف آ رہا تھا ، وہ اُٹھ کر اپنے ہتھیار کی طرف جانے لگے ، تو شیر نے ان سے کہا: رک جائیے ! میں آپ کے پاس ایک پیغام لے کر آیا ہوں تاکہ آپ اسے پہنچا دیں ، میں نے دریافت کیا : تمہیں کس نے بھیجا ہے ؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ بتا دیں کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں ، میں نے دریافت کیا : کون معاویہ ؟ اس نے کہا: سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15925
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (307/19)»