حدیث نمبر: 1592
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ فَأْرَةٍ وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ ، فَقَالَ : " اطْرَحُوهَا وَمَا حَوْلَهَا ، وَكُلُوهُ إِنْ كَانَ جَامِدًا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنْ كَانَ مَائِعًا ؟ قَالَ : " انْتَفِعُوا بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ : كَانَ بِإِفْرِيقِيَّةَ وَكَانَ ثِقَةً ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے چوہے کے بارے میں دریافت کیا گیا : جو گھی میں گر گیا تھا ، تو آپ نے فرمایا : اُسے نکالو اور اُس کے اردگرد کے گھی کو بھی نکال لو ، اور باقی بچ جانے والے گھی کو کھا لو ، اگر وہ جما ہوا تھا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر وہ مائع ہوتا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُس سے نفع حاصل کر لو ( یعنی کھانے کے علاوہ کسی اور مصرف میں استعمال کر لو ! ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالجبار بن عمر ہے ، محمد بن سعد بیان کرتے ہیں : وہ افریقہ میں تھا ، اور ثقہ تھا ، ایک جماعت نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1592
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف