مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَمْرٍو أَيْضًا وَابْنِهِ عَبْدِ اللَّهِ وَأُمِّ عَبْدِ اللَّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - . باب: حضرت عمرو رضی اللہ عنہ ، ان کے صاحبزادے ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ( حضرت عبداللہ کی والدہ ) سیدہ ام عبداللہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں جو منقول ہے
حدیث نمبر: 15905
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : لَخَيْرٌ أَعْلَمُهُ الْيَوْمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مِثْلَيْهِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; لِأَنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَهُمُّنَا الْآخِرَةُ ، وَلَا تَهُمُّنَا الدُّنْيَا ، وَإِنَّا الْيَوْمَ قَدْ مَالَتْ بِنَا الدُّنْيَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : آج اگر میں ایک بھلائی کروں ، تو یہ میرے نزدیک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کی ہوئی اس سے دُگنی بھلائی سے زیادہ پسندیدہ ہو گی ، کیونکہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے تو ہماری توجہ آخرت کی طرف تھی ، دنیا ہمارا مطمع نظر نہیں ہوتی تھی ، اور آج ہم دنیا کی طرف مائل ہو چکے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔