مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْفَأْرَةِ وَالنَّجَاسَةِ تَقَعُ فِي الطَّعَامِ أَوِ الشَّرَابِ . باب: چوہے یا نجاست کا کھانے یا پینے کی چیز گر جانا
وَعَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهَا اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ فَأْرَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ لَهُمْ جَامِدٍ ، فَقَالَ : " أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا ، وَكُلُوا سَمْنَكُمْ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ خَلَا أَنَّهَا هِيَ السَّائِلَةُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ الْقَرْقَسَانِيِّ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَرَوَى عَنْهُ ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ . ¤نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اُس چوہے کا حکم دریافت کیا ، جو جمے ہوئے گھی میں گر گیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس چوہے کو ، اور اس کے آس پاس والے گھی کو پھینک دو ، اور اپنا گھی کھا لو !
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” وہ بہنے والا ( یعنی مائع شکل میں ) تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ’ محمد بن مصعب قرقسانی سے نقل کی ہے ، اس شخص کو امام أحمد نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور اس سے روایت نقل کی ہے ، یحییٰ بن معین اور ایک جماعت نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔