مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 15894
وَعَنْ طَلْحَةَ - يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَا عَمْرُو ، إِنَّكَ لَذُو رَأْيٍ سَدِيدٍ فِي الْإِسْلَامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارِ قَوْلِهِ : " فِي الْإِسْلَامِ " . وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ فِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اے عمرو ! اسلام میں تم ایک سمجھ دار رائے رکھنے والے فرد ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اسلام میں“ ۔ معجم کبیر کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں اور ہزار کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے اور وہ متروک ہے ۔