حدیث نمبر: 15882
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ : أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَقَدَ قُلُنْسُوَةً لَهُ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ ، فَقَالَ : اطْلُبُوهَا ، فَلَمْ يَجِدُوهَا ، فَقَالَ : اطْلُبُوهَا ، فَوَجَدُوهَا فَإِذَا هِيَ قُلُنْسُوَةٌ خَلَقَةٌ ، فَقَالَ خَالِدٌ : اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَلَقَ رَأْسَهُ ، فَابْتَدَرَ النَّاسُ جَوَانِبَ شَعَرِهِ فَسَبَقْتُهُمْ إِلَى نَاصِيَتِهِ ، فَجَعَلْتُهَا فِي هَذِهِ الْقُلُنْسُوَةِ ، فَلَمْ أَشْهَدْ قِتَالًا وَهِيَ مَعِي إِلَّا رُزِقْتُ النُّصْرَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَجَعْفَرٌ سَمِعَ مِنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ فَلَا أَدْرِي سَمِعَ مِنْ خَالِدٍ أَمْ لَا . ¤
محمد محی الدین

جعفر بن عبداللہ بن حکم بیان کرتے ہیں : سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ٹوپی جنگ یرموک کے دن گم ہو گئی ، انہوں نے فرمایا : تم لوگ اسے تلاش کرو ، لوگوں کو وہ نہیں ملی ، تو انہوں نے فرمایا : تم لوگ اسے تلاش کرو ، لوگوں نے تلاش کیا تو انہیں وہ مل گئی ، وہ ایک پرانی سی ٹوپی تھی ، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کے موقع پر اپنا سر مونڈوایا تھا ، تو لوگ آپ کے اطراف کے بال لینے کے لئے لپکے تھے ، اور میں ان لوگوں سے سبقت لے گیا اور آپ کی پیشانی کے بال حاصل کر لیے اور وہ اس ٹوپی میں رکھ دیے ، تو میں جس بھی جنگ میں شریک ہوتا ہوں ، تو یہ ٹوپی میرے پاس ہو تو مجھے کامیابی نصیب ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، جعفر نامی راوی نے صحابہ کرام کی ایک جماعت سے سماع کیا ہے ، لیکن مجھے یہ نہیں معلوم کہ اس نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے یا نہیں کیا ہے ؟

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15882
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7183) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3804)»