مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ ثَابِتٍ قَالَ : كُنْتُ إِذَا أَتَيْتُ أَنَسًا يُخْبَرُ بِمَكَانِي ، فَأَدْخُلُ عَلَيْهِ ، فَآخُذُ بِيَدَيْهِ فَأُقَبِّلْهُمَا وَأَقُولُ : بِأَبِي هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ اللَّتَيْنِ مَسَّتَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُقَبِّلُ عَيْنَيْهِ وَأَقُولُ : بِأَبِي هَاتَيْنِ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ رَأَتَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ثابت بیان کرتے ہیں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس میں آیا کرتا تھا ، اور انہیں میرے آنے کے بارے میں بتایا جاتا تھا ، تو وہ مجھے اندر آنے کے لئے کہتے تھے ، میں ان کے دونوں ہاتھ پکڑ کے ان کو بوسہ دیتا تھا اور یہ کہتا تھا : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، یہ دونوں ہاتھ وہ ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوا ہے ، پھر ان کی دونوں آنکھوں کو بوسہ دیتا تھا اور یہ کہتا تھا : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، یہ دو آنکھیں وہ ہیں ، جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن ابوبکر مقدمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔