حدیث نمبر: 15767
وَعَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ : خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي مُظْلِمَةً ، فَقُلْتُ : لَوْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَشَهِدْتُ مَعَهُ الصَّلَاةَ وَآنَسْتُهُ بِنَفْسِي . فَفَعَلْتُ ، فَلَمَّا دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ بَرَقَتِ السَّمَاءُ ، فَرَآنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا قَتَادَةُ مَا هَاجَ عَلَيْكَ ؟ " . قُلْتُ : أَرَدْتُ بِأَبِي وَأُمِّي أَنْ أُؤْنِسَكَ قَالَ : " خُذْ هَذَا الْعُرْجُونَ فَتَخَصَّرْ بِهِ ; فَإِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ أَضَاءَ لَكَ عَشْرًا أَمَامَكَ وَعَشْرًا خَلْفَكَ " . ثُمَّ قَالَ لِي : " إِذَا دَخَلْتَ بَيْتَكَ رَأَيْتَ مِثْلَ الْحَجَرِ الْأَخْشَنِ فِي أَسْتَارِ بَيْتِكَ فَإِنَّ ذَلِكَ شَيْطَانٌ . قَالَ : فَخَرَجْتُ، فَأَضَاءَ لِي ، ثُمَّ ضَرَبْتُ مِثْلَ الْحَجَرِ الْأَخْشَنِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ بَيْتِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِي الصَّلَاةِ فِي السَّاعَةِ الَّتِي تُرْجَى يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَفِي الصَّلَاةِ فِي جَمَاعَةٍ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ أَيْضًا ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ الَّذِي تَقَدَّمَ فِي الصَّلَاةِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک تاریک رات میں ، میں نکلا ، میں نے سوچا مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہونا چاہیے ، اور آپ کو اپنی ذات کے حوالے سے انسیت فراہم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ، میں نے ایسا ہی کیا ، جب میں مسجد میں داخل ہوا ، تو اسی دوران آسمان پر بجلی چمکی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاحظہ کیا تو فرمایا : اے قتادہ ! تم کیوں آئے ہو ؟ میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں آپ کو انسیت فراہم کروں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ شاخ لے لو ! اس کے ذریعے ٹیک لگا کے جاؤ ، جب تم نکلو گے تو دس قدم آگے اور دس قدم پیچھے تک یہ تمہیں روشنی فراہم کرے گی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : جب تم اپنے گھر میں داخل ہو گے تو ایک کھردرے پتھر کی چیز تمہیں اپنے گھر کے پردوں میں نظر آئے گی ، وہ شیطان ہو گا ، راوی کہتے ہیں : میں وہاں سے نکلا وہ شاخ میرے لئے روشن ہو گئی پھر میں نے اس کھردرے پتھر کی چیز پر ضرب لگائی ، تو وہ میرے گھر سے باہر نکل گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد نے اسے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کیا ہے ، جو اس سے پہلے نماز سے متعلق کتاب میں ، اُس گھڑی سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، جو جمعہ کے دن میں موجود ہوتی ہے اور جس میں دعا کی قبولیت کی امید ہوتی ہے ، اور اس کے علاوہ باجماعت نماز ادا کرنے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے ہی نقل کی ہے اور امام أحمد کی وہ روایت جو کتاب الصلوۃ میں پہلے گزر چکی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15767
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2709) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13/19)»