مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی فضٰلت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ أُمِّ سَعْدٍ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ : أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَلْقَى لَهَا ثَوْبًا حَتَّى جَلَسَتْ عَلَيْهِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ ، مَنْ هَذِهِ ؟ قَالَ : هَذِهِ بِنْتُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي وَمِنْكَ إِلَّا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ قُبِضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ] وَبَقِيتُ أَنَا وَأَنْتَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدہ ام سعد بنت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے کپڑا بچھا دیا ، تو وہ اس پر بیٹھ گئیں ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! یہ خاتون کون ہے ؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : یہ اس شخص کی صاحبزادی ہے ، جو مجھ سے اور تم سے بہتر ہے ، البتہ اللہ کے رسول کا معاملہ مختلف ہے ، وہ ایک ایسا فرد ہے ، جس کا انتقال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہو گیا تھا ، اور اس نے جنت میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا اور میں اور تم باقی رہ گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن قیس بن سعد بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔