مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی فضٰلت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ رُمَيْثَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَوْ أَشَاءُ أَنْ أُقَبِّلَ الْخَاتَمَ الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِنْ قُرْبِي مِنْهُ لَقَبَّلْتُ - وَهُوَ يَقُولُ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ يَوْمَ مَاتَ : " اهْتَزَّ لَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِنَحْوِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِهِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا رمیثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ، اُس وقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنا قریب تھا کہ اگر میں چاہتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان موجود ” مہر نبوت “ کا بوسہ لے سکتا تھا ، جس دن سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے لیے رحمن کا عرش ہلا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی نے بھی اسے نقل کیا ہے ، معجم کبیر اور معجم اوسط میں ، روایت کے یہ الفاظ ان کی نقل کردہ ہیں ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ان کے استاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہیں ۔