حدیث نمبر: 1567
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : بَعَثَ عَلِيٌّ رَجُلًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُهُ عَنِ الْمَذْيِ ، فَكَرِهَ أَنْ يَكُونَ هُوَ الَّذِي يَسْأَلُهُ لِمَكَانِ فَاطِمَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يَرَى الْمَرْأَةَ فَيَمْذِي ، أَعَلَيْهِ الْغُسْلُ ؟ فَقَالَ : " تِلْكَ يَلْقَاهَا فُحُولَةُ الرِّجَالِ ، يُجْزِئُكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو هَارُونَ الْعَبْدِيُّ ، وَأَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ، تاکہ وہ آپ سے مذی کے بارے میں دریافت کرے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنا اس لئے مناسب نہیں سمجھا کیونکہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ان کی اہلیہ تھیں ، اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک شخص کسی عورت کو دیکھتا ہے ، تو اُس کی مذی خارج ہو جاتی ہے ، کیا اس پر غسل لازم ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس چیز کا سامنا جوان مردوں کو کرنا پڑتا ہے ، ایسی صورت میں تمہارے لئے وضو کفایت کر جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوہارون عبدی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1567
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف