مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ بِلَالٍ الْمُؤَذِّنِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت بلال مؤذن رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَسَمِعْتُ خَشْفَةً بَيْنَ يَدَيْ ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، مَا هَذِهِ الْخَشْفَةُ ؟ قَالَ : بِلَالٌ يَمْشِي أَمَامَكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِيمَا اجْتَمَعَ مِنَ الْفَضْلِ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَغَيْرِهِمَا ، وَرِجَالُ الصَّغِيرِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے کسی کی چاپ سنی ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ چاپ کس کی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ بلال ہیں ، جو آپ کے آگے چل رہے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، امام أحمد نے اسے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کیا ہے ، جو اس سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات کے اجتماعی فضائل سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، معجم صغیر کے رجال ثقہ ہیں ۔