حدیث نمبر: 15632
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهَبٍ قَالَ : سِرْنَا مَعَهُ - يَعْنِي مَعَ عَلِيٍّ - حِينَ رَجَعَ مِنْ صِفِّينَ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَابِ الْكُوفَةِ إِذْ نَحْنُ بِقُبُورِ سَبْعَةٍ عَنْ أَيْمَانِنَا ، فَقَالَ عَلِيٌّ : مَا هَذِهِ الْقُبُورُ ؟ فَقَالُوا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّ خَبَّابَ بْنَ الْأَرَتِّ تُوُفِّيَ بَعْدَ مَخْرَجِكَ إِلَى صِفِّينَ ، وَأَوْصَى أَنْ يُدْفَنَ فِي ظَهْرِ الْكُوفَةِ ، وَكَانَ النَّاسُ إِنَّمَا يَدْفِنُونَ مَوْتَاهُمْ فِي أَقْبِيَتِهِمْ وَعَلَى أَبْوَابِ دُورِهِمْ ، فَلَمَّا رَأَوْا خَبَّابًا أَوْصَى بِالظَّهْرِ دَفَنَ النَّاسُ ، فَقَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : رَحِمَ اللَّهُ خَبَّابًا ; لَقَدْ أَسْلَمَ رَاغِبًا ، وَهَاجَرَ طَائِعًا ، وَعَاشَ مُجَاهِدًا ، وَابْتُلِيَ فِي جِسْمِهِ أَحْوَالًا ، وَلَنْ يُضَيِّعَ اللَّهُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلًا ، ثُمَّ دَنَا مِنَ الْقُبُورِ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ ، أَنْتُمْ لَنَا سَلَفٌ فَارِطٌ ، وَنَحْنُ لَكُمْ تَبَعٌ عَمَّا قَلِيلٍ لَاحِقٌ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلَهُمْ وَتَجَاوَزْ عَنَّا وَعَنْهُمْ ، طُوبَى لِمَنْ أَرَادَ الْمَعَادَ ، وَعَمِلَ لِلْحُسْنَى ، وَقَنِعَ بِالْكَفَافِ ، وَرَضِيَ عَنِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَاسِطِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

زید بن وہب بیان کرتے ہیں : ہم ان کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، راوی کہتے ہیں : یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ صفین سے واپس آ رہے تھے ، جب ہم کوفہ کے دروازے کے پاس پہنچے ، تو وہاں ہمارے دائیں طرف سات قبریں موجود تھیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یہ کس کی قبریں ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : اے اميرالمؤمنین ! آپ کے صفین کی طرف تشریف لے جانے کے بعد سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، تو انہوں نے یہ وصیت کی کہ انہیں کوفہ سے باہر دفن کیا جائے ، راوی بیان کرتے ہیں : پہلے لوگ اپنے مرحومین کو اپنے گھروں میں دفن کرتے تھے ، یا اپنے محلوں کے دروازوں پر دفن کرتے تھے ، جب انہوں نے یہ دیکھا کہ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے شہر سے باہر دفن ہونے کی وصیت کی ہے ، تو کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اپنے مرحومین یہاں دفن کر دیے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ خباب پر رحم کرے ، اس نے رغبت رکھتے ہوئے اسلام قبول کیا ، فرمانبرداری کرتے ہوئے ہجرت کی ، مجاہد کے طور پر زندہ رہا ، اُسے اس کے جسم کے حوالے سے کچھ امور میں مبتلا کیا گیا ، لیکن اللہ تعالیٰ اس شخص کا اجر ضائع نہیں کرے گا ، جس نے اچھا عمل کیا ہو ۔ “ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ قبروں کے قریب ہوئے اور انہوں نے یہ دعا پڑھی : ” اے مومنوں اور مسلمانوں کی بستی کے رہنے والو ! تم پر سلام ہو ، تم ہمارے پیشرو ہوں ، اور ہم تمہارے پیچھے آنے والے ہیں تھوڑے ہی عرصے میں ہم بھی تم سے آ ملیں گے ، اے اللہ ! تو ہماری اور ان کی مغفرت کر دے ، تو ہم سے اور اُن سے درگزر کر دے ، اس شخص کے لیے مبارکباد ہے جو آخرت کا ارادہ رکھتا ہے اور بھلائی کے لئے عمل کرتا ہے ، اور بنیادی ضرورت پوری ہونے پر قناعت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے راضی رہتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن عبدالرحمن واسطی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15632
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3618)»