مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِيمَا جَاءَ فِي عِلْمِهِ ، وَمَا سُئِلَ عَنْهُ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے علم کا بیان
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : مَاتَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِالطَّائِفِ فَشَهِدْنَا جِنَازَتَهُ ، فَجَاءَ طَائِرٌ لَمْ يُرَ عَلَى خِلْقَتِهِ حَتَّى دَخَلَ فِي نَعْشِهِ ، ثُمَّ لَمْ يُرَ خَارِجًا مِنْهُ ، فَلَمَّا دُفِنَ تُلِيَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ ، لَمْ يُدْرَ مَنْ تَلَاهَا : ( يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا انتقال طائف میں ہوا ، ہم اُن کے جنازے میں شریک ہوئے ، ایک پرندہ آیا ، اس جیسی مخلوق نہیں دیکھی گئی تھی ، یہاں تک کہ وہ اُن کی میت میں داخل ہو گیا ، پھر وہ باہر نکلتا ہوا نظر نہیں آیا ، جب انہیں دفن کیا گیا ، تو ان کی قبر کے کنارے پر اس آیت کی تلاوت سنائی دی ، لیکن یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ تلاوت کون کر رہا ہے ؟ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اسے مطمئن جان ! تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ آؤ ، راضی رہتے ہوئے اور پسندیدہ ہوتے ہوئے ، تم میرے بندوں میں داخل ہو جاؤ ، تم میری جنت میں داخل ہو جاؤ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔