مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِيمَا جَاءَ فِي عِلْمِهِ ، وَمَا سُئِلَ عَنْهُ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے علم کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَعْطِ الْحِكْمَةَ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهِ فَوَجَدَ عَبْدُ اللَّهِ بَرْدَهَا فِي صَدْرِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ احْشُ جَوْفَهُ عِلْمًا وَحِلْمًا " . فَلَمْ يَسْتَوْحِشْ فِي نَفْسِهِ إِلَى مَسْأَلَةِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، وَلَمْ يَزَلْ حَبْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے سر پر رکھا اور یہ دعا کی : اے اللہ ! تو اسے حکمت عطا کر دے اور اسے تفسیر کا علم عطا کر دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کی ٹھنڈک سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے سینے میں محسوس کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی : اے اللہ ! اس کے پیٹ کو ( یعنی سینے کو ) علم اور بردباری سے بھر دے ! راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کسی بھی شخص سے ، کسی چیز کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے الجھن محسوس نہیں ہوئی ، اور وہ مسلسل اس اُمت کے بڑے عالم رہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دیدی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔