حدیث نمبر: 15515
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضَعَ يَدَهُ عَلَى كَتِفِي أَوْ عَلَى مِنْكَبِي - شَكَّ سَعِيدٌ - ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ : " وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَلَهُ عِنْدَ الْبَزَّارِ ، وَالطَّبَرَانِيِّ : " اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ تَأْوِيلَ الْقُرْآنِ " . ¤ وَلِأَحْمَدَ طَرِيقَانِ رِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے کندھے پر رکھا ۔ ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) - میرے کندھے پر رکھا ۔ ( یہ شک سعید نامی راوی کو ہے ، یعنی اس میں کندھے کے لئے استعمال ہونے والا لفظ مختلف ہے ) ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! تو اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دے اور اسے تفسیر کا علم عطا کر دے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اور تو اسے تفسیر کا علم عطا کر دے ! “ . یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور امام طبرانی نے یہ روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے : ” اے اللہ ! تو اسے قرآن کی تفسیر کا علم عطا کر دے ! “ ۔ امام أحمد کی روایت کے دو طریق ہیں اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15515
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (2397)»