مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - باب: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالشِّعْبِ أَتَى أَبِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، مَا أَرَى أُمَّ الْفَضْلِ إِلَّا قَدِ اعْتَمَلَتْ عَلَى جَمَلٍ قَالَ : " لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَقَرَّ أَعْيُنَنَا بِغُلَامٍ " . فَأَتَى بِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا فِي خِرْقِي ، فَحَنَّكَنِي . قَالَ مُجَاهِدٌ : لَا نَعْلَمُ أَحَدًا حُنِّكَ بِرِيقِ النُّبُوَّةِ غَيْرَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُتَّصِلًا ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِيهِمْ ضَعْفٌ ، وَرَوَاهُ مُخْتَصَرًا بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعب ( یعنی شعب ابی طالب ) میں تھے ، اُس وقت میرے والد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میرا یہ خیال ہے کہ ام فضل حاملہ ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شاید اللہ تعالیٰ لڑکے کے ذریعے ہماری آنکھیں ٹھنڈی کرے ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب میں پیدا ہوا تو مجھے کپڑے میں لپیٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گھٹی دی ۔ مجاہد کہتے ہیں : اُن کے علاوہ ہمیں کسی ایسے فرد کے بارے میں علم نہیں ہے جسے نبوت کے لعاب کے ذریعے گھٹی دی گئی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے متصل طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ، امام طبرانی نے اسے منقطع سند کے ساتھ مختصر روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ۔